قرآن وسنت کی رہنمائی
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی طرف " مارچ " کرنے کا حکم نہیں دیا۔ مذکورہ آیت میں اس کی دو خاص وجہ بتائی گئی ہے۔ ١۔ مکہ کی طرف عمرہ کی ادائیگی کے لیے " مارچ " کرنا اگر چہ بظاہر ایک سادہ واقعہ تھا مگر اس وقت اہل مکہ کے درمیان اشتعال کی جو فضا عیاں کی گئی تھی، اس کو دیکھتے ہوئے یہ یقینی تھا کہ " مارچ " کو جاری رکھنے میں مسلمانوں کا اہل مکہ سے غیر ضروری ٹکراؤ ہو گا اور اس کے نتیجہ میں بہت سے بے قصور مسلمان ناحق مارے جائیں گے۔ مسلمان کا خون بے حد قیمتی ہے۔ اس کو بچانا ہر دوسری مصلحت پر فوقیت رکھتا ہے۔ ٢۔ ٹکراؤ سے بچنے کی دوسری مصلحت یہ بتائی کہ جن لوگوں سے تمہارا جنگی ٹکراؤ ہوتا وہ اگرچہ بظاہر تمہارے اور اسلام کے دشمن تھے مگر ان میں بہت سے ایسے افراد تھے جن کے اندر قبولیت حق کی فطری استعداد موجودہتھی۔ ان کے متعلق امید تھی کہ آئندہ جب ضد کی فضا ختم ہوگی تو وہ اپنے معاملہ پر نظر ثانی کریں گے اور ایمان قبول کر کے تمہارے ساتھی اور حمایتی بن جائیں گے۔ ایسے لوگوں کی اشتعال انگیزی پر ان سے لڑنا نہیں ہے بلکہ اشتعال کو نظر انداز کر کے ایسے حالات پیدا کرنا ہے کہ ان پر دعوتی عمل جاری کیا جاسکے۔ جن لوگوں کو دعوت کے ذریعہ مسخر کرنے کا موقع ہو ان کو دشمن کے خانہ میں ڈال کر ان کے خلاف لڑائی چھیڑنا اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس وقت دو قسم کے مسئلے تھے۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ موحد اعظم حضرت ابراہیم کی بنائی ہوئی مسجد میں سیکڑوں بت رکھ دیئے گئے تھے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے لیے اس میں داخلہ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اس دستوری حق کو حاصل کرنے اور مسجد کو بتوں سے پاک کرنے کی مہم چلانے میں بیک وقت دو نقصان تھا۔ مسلمانوں کا قتل و خون اور متوقع مومنین سے محرومی۔ آپ نے اس وقت یہ کیا کہ پہلے مسئلہ کو دوسرے مسئلہ کے تابع کر دیا۔ آپ نے دوسرے مسئلہ کی فوری رعایت فرمائی اور پہلے مسئلہ کو مستقبل کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہ تدبیر نہایت موثر ثابت ہوئی۔ بستہ میں دوسرا مسئلہ حل ہوا، اور نتیجہ میں پہلا مسئلہ آپ حال کے بھی مالک بن گئے اور مستقبل کے مالک بھی۔ یہ پیغمبر کا طریقہ ہے۔ اور پیغمبر کے طریقہ کے سوا کسی اور طریقہ میں کامیابی اور نجات نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader