Urdu book · قیادت نامه

بربادی کے رہنما

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

بربادی کے رہنما ہفت روزہ نئی دنیا ( ۲۹ جولائی ۔ ۴ اگست ۱۹۸۸) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بابری مسجد رابطہ کمیٹی کے "اہم قائدین" لکھنؤ کے ایک بزرگ عالم سے ملے۔ قائدین نے سے اجودھیا مارچ کے بارہ میں تفصیلی گفتگو کی۔ مطبوعہ رپورٹ کے مطابق، مذکورہ عالم نے واضح طور پر کہا کہ اجودھیا مارچ کوئی فقہی مسئلہ نہیں ہے جس پر کسی فتویٰ کی ضرورت ہو یا اس کی کوئی اہمیت ہو۔ "بابری مسجد رابطہ کمیٹی نے مولانا موصوف سے اس سلسلہ میں ان کی رائے طلب کی تھی۔ لیکن مولانا نے صاف کہہ دیا کہ اس مسئلہ پر کسی فتویٰ کی ضرورت نہیں، یہ ایک غیر فقہی مسئلہ ہے۔" صفحہ ۳ ۱۔ فقہ علم شریعت کا نام ہے۔ اور اجودھیا مارچ، ذمہ داروں کے اعلان کے مطابق، یہ ہے کہ مسلمان جلوس بنا کر بڑی تعداد میں اجودھیا جائیں اور وہاں بابری مسجد کے اندر جمعہ کی نماز پڑھیں ۔ اب نا قابل فہم ہے کہ ایک ایسا مسئلہ جس کا تعلق مسجد اور نماز سے ہو، اس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جائے کہ وہ فقہی اور شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ اس معاملہ میں شریعت سے رہنمائی لینے کی ضرورت نہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ وہ شریعت جو چودہ سو سال سے استنجا اور طہارت تک کے معاملات میں مسلمانوں کی رہنما بنی ہوئی تھی، اب وہ مسجد اور نماز کے معاملہ میں کبھی رہنمائی دینے سے عاجز یا غیر متعلق ہو گئی ہے ۔ اب مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس معاملہ کو دور پریس کی اُس مخلوق کے حوالے کر دیں جس کو عام طور پر سیاسی لیڈر (صحیح تر لفظ میں سیاسی تاجر) کہا جاتا ہے ۔ یہ بلاشبہ ایک انتہائی عجیب واقعہ ہے جو مسلمانوں کی لمبی تاریخ میں شاید اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا۔ ۲۔ قائدین تحریک کے اعلان کے مطابق ، اجودھیا مارچ یہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں کے مسلمان سفر کر کے ۴ اکتوبر ۱۹۸۸ کو اجودھیا پہونچیں اور وہاں بابری مسجد میں داخل ہو کر نماز جمعہ ادا کریں ۔ یہ منصوبہ واضح طور پر اس فرمانِ رسول کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی صرف تین مسجدیں ہیں جن کے لیے شدّ رحال جائز ہے ، ان کے سوا کسی اور مسجد کے لیے جائز نہیں ۔ حدیث میں جن تین استثنائی مسجدوں کا نام لیا گیا ہے ، ان میں اجودھیا کی بابری مسجد یقینی طور پر شامل نہیں ہے، اس لیے اس کے واسطے عبادتی شدّ رحال بھی جائز نہیں ہو سکتا (ملاحظہ ہو الرسلہ اگست ۱۹۸۸)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page