Urdu book · قیادت نامه

بربادی کے رہنما

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

میں در اندازی کی فہرست معلوم نہیں کہاں کہاں تک جاپہونچے گی ۔ موجودہ نام نہاد مسلم لیڈروں کی طرح ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا کہ اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر اکسائیں کہ دیکھو ، یہ صرف ایک عمرہ کا معاملہ نہیں ہے ۔ بلکہ ایک دستوری حق کا معاملہ ہے ۔ ہمیں بہر حال دستوری حق کی لڑائی لڑنی ہے ، اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹنا ہے جب تک ہم اپنے دستوری حق کو پوری طرح منوانے میں کامیاب نہ ہوجائیں ۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے " غیر دستوری " مطالبہ کو مان لیا اور عمرہ کیے بغیر حدیبیہ سے واپس چلے آئے ۔ قرآنِ اول کی یہ مثال بتاتی ہے کہ " دستوری حق " اور " علامتی واقعہ " وغیرہ اہل باطل کی بولیاں ہیں ، وہ پیغمبر کی بولی نہیں ہے ۔ جو لوگ اس قسم کے الفاظ بول رہے ہیں وہ پیغمبر کے نمونہ پر نہیں چل رہے ہیں ، بلکہ باطل پرست قوموں کے نمونہ پر چل رہے ہیں ۔ پیغمبر کا طریقہ " دستوری لڑائی " لڑنا نہیں ہے ، بلکہ حقیقت واقعہ کو بدلنا ہے ۔ پیغمبر کا طریقہ دل کو جیتنا ہوتا ہے نہ کہ الفاظ کو جیتنا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ کو اہل شرک کے حوالے کر دیا ، اور خود اپنی ساری کوشش انسانوں کو بدلنے پر لگادی ۔ آخر کار جب انسان بدلے تو انسان بھی آپ کے قبضہ میں آگئے اور الفاظ بھی ۔ ۹ - جولیڈ رصاحبان اجودھیا مارچ کے حامی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس وقت مارچ کی کارروائی نہ کریں اور اجودھیا کی مسجد کے معاملہ میں خاموش ہو جائیں تو غاصب گروہ کے حوصلے مزید بڑھ جائیں گے ۔ آج انھوں نے ایک مسجد پر قبضہ کیا ہے ، کل وہ دوسری مسجدوں پر قبضہ کریں گے ۔ یہ بالکل بے وزن بات ہے اور محض اپنی بدترین نالائقی پر پردہ ڈالنے کے لیے گھڑی گئی ہے ۔ راقم الحروف نے الرسالہ جولائی ۱۹۸۸ (قیادت کا دیوالیہ پن) میں دکھایا ہے کہ اسی ملک میں دوسری بہت سی مسجدیں جو ۱۹۷۲ کے ہنگامے میں مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں ۔ آج وہ مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں ۔ مساجد کی بازیابی کے معاملہ میں یہ کامیابی تمام تر خاموش حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ حاصل کی گئی ۔ اگر کوئی صاحب اس معاملہ میں براہِ راست واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہوں تو دہلی کی حد تک ، میں ذاتی ذمہ داری لیتا ہوں ۔ وہ میرے پاس آئیں اور میں ان کو لے جاکر دہلی کی کئی بڑی بڑی مسجدیں دکھاؤں گا ۔ کچھ سال پہلے تک یہ مسجدیں اغیار کے قبضہ میں تھیں ۔ آج وہ پوری طرح مسلمانوں کے پاس ہیں ۔ وہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page