Urdu book · قیادت نامه

قومی شریعت

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن ان کو سخت عذاب میں ڈال دیا جائے ۔ اور اللہ اس چیز سے بے خبر نہیں جو تم کر رہے ہو۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ پس نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مدد پہنچے گی (البقرہ ۸۲ - ۸۶) ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ قدیم مدینہ میں دو مشرک قبیلے آباد تھے۔ ایک کا نام اوس اور دوسرے کا نام خزرج تھا۔ دوسری طرف مدینہ اور اطراف مدینہ میں تین یہودی قبیلے تھے ۔ بنو قینقاع بنو نضیر اور بنو قریظہ ۔ اوس اور خزرج کا حال یہ تھا کہ ان کے درمیان اکثر جنگ جاری رہتی تھی۔ گویا قدیم مدینہ میں دو مشرکانہ محاذ قائم تھے۔ ایک اوس کا محاذ، اور دوسرا خزرج کا محاذ یہودی قبائل ان سے الگ نہ رہ سکے۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر قبیلہ خزرج کے محاذ میں شامل ہوگئے ۔ اور بنو قریظہ قبیلہ اوس کے محاذ میں ، ٹھیک ویسے ہی جیسے موجودہ زمانہ میں ایک مسلم ملک روس کے کیمپ میں شامل ہو جاتا ہے اور دوسرا مسلم ملک امریکہ کے کیمپ میں ۔ یا جیسے ہندوستان میں کچھ مسلمان کانگریس کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کچھ مسلمان اپوزیشن کے ساتھ۔ اور پھر یہ مسلمان دو محاذوں میں بٹ کر آپس میں لڑتے ہیں ۔ مدینہ کے ایک مشرک محاذ اور دوسرے مشرک محاذ کے درمیان جب جنگ چھڑتی تو یہودی قبائل کے لوگ بھی دونوں طرف سے شامل ہوجاتے ۔ اس طرح ایک یہودی قبیلہ دوسرے یہودی قبیلہ کے کے خلاف جنگ کرتا ۔ ایک یہودی دوسرے یہودی کو مارتا اور اس کو اس کی آبادی سے نکال کر جلا وطن کرتا ۔ یہ فعل یہودی شریعت کے سراسر خلاف تھا۔ کیوں کہ ان کو ان کے پیغمبروں کے ذریعہ جو احکام دیئے گئے ان میں واضح طور پر لکھا ہوا تھا کہ ایک یہودی پر لازم ہے کہ وہ دوسرے یہودی کے جان و مال کا احترام کرے ۔ ایک یہودی دوسرے یہودی پر کوئی ظلم نہ کرے ۔ آپس کی لڑائی میں یہود اپنی شریعت کے احکام کو بھول جاتے ۔ مگر جب جنگ ختم ہو جاتی اور وہ دیکھتے کہ یہودیوں کی ایک تعداد گرفتار ہو کر مشرک قبائل (اوس یا خزرج) کے قبضہ میں چلی گئی ہے اور وہ ان کو قیدی بنائے ہوئے ہیں تو اس وقت ان کی غیرت قومی جاگ اٹھتی۔ اس وقت وہ اپنی شریعت کا یہ حکم لوگوں کو سنانا شروع کرتے کہ "کوئی یہودی اگر غیر یہودی کے ہاتھ گرفتار ہو جائے تو اس کو فدیہ دے کر چھٹڑاؤ" اب تقریریں ہوتیں ۔ قومی چندے جمع کیے جاتے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page