Urdu book · قیادت نامه

قومی شریعت

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

یہودی قیدیوں کو مشرک قبائل سے فدیہ دے کر چھڑایا جاتا۔ اور پھر وہ فخر کے ساتھ اعلان کرتے کہ ہم نے موسوی شریعت کے فلاں حکم کے تحت ایسا کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد اول، صفحہ ۲۱- ۱۲۰) ان کے اس تضاد پر قرآن میں کہا گیا کہ تمہاری شریعت میں دو باتوں کا حکم تھا۔ ایک یہ کہ ایک یہودی دوسرے یہودی کو نہ مارے اور اس کو اس کے گھر سے نہ نکالے۔ تم نے بہت بڑے پیمانہ پر یہ جرم کیا اور اس وقت تم کو اپنی شریعت کا حکم یاد نہ آیا۔ تمہاری شریعت میں دوسرا حکم یہ تھا کہ یہودی غیر یہودی کے قبضہ میں چلا جائے تو اس کو فدیہ دے کر چھڑاؤ۔ اس دوسرے حکم پر تم عمل کر رہے ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ تمہارا عمل حقیقتہً قومی جذبہ کے تحت ہے نہ کہ دینی جذبہ کے تحت۔ اگر اس کا محرک دینی جذبہ ہوتا تو تم دونوں جگہ دینی احکام پر عمل کرتے۔ مگر جہاں مسئلہ خالص دینی تھا وہاں تم کو دین یاد نہ آیا اور جب مسئلہ قومی غیرت کا بن گیا تو تم کو دینی حکم یاد آ رہا ہے۔ ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں۔ کیوں کہ اللہ کے یہاں اندرونی جذبہ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے نہ کہ عمل کی ظاہری صورت کی بنیاد پر۔ اس بات کو لفظ بدل کر اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ معاملہ جب اپنی قوم کے دو افراد کے درمیان ہو تو چپ رہنا، اور جب معاملہ اپنی قوم اور غیر قوم کا بن جائے تو ہنگامہ کرنا اور خطرہ کی نفسیات جگا کر پر شور تحریکیں چلانا، اس کا نام یہودی سنت یا یہودی روش ہے۔ یہودی آپس میں ایک دوسرے سے معاملہ کرتے ہوئے شریعت خداوندی کو پامال کرتے تھے، مگر ان کے رہنما اس کے خلاف کوئی جوش نہ دکھاتے۔ یہ انھیں تحفظ شریعت کا مسئلہ نظر نہ آتا۔ مگر جب یہودی کے اوپر غیر یہودی کوئی ظلم کرتا تو فوراً انھیں شریعت خطرہ میں نظر آنے لگتی۔ وہ اس کے خلاف دھواں دار تحریکیں چلاتے اور اپنی اس مہم کے حق میں شریعت الہی کے دلائل پیش کرتے۔ بدقسمتی سے یہود کی یہ سنت آج مسلمانوں میں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ آپس کی بے دینی اور نا انصافی کو دیکھتے ہیں مگر اس معاملہ میں وہ بالکل بے حس بنے رہتے ہیں۔ ان کی اسی بے حسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ ان کے اندر داخلی نا انصافیوں پر کوئی بڑی تحریک اٹھائی جاسکے۔ البتہ غیروں کی نا انصافی کے معاملہ میں وہ انتہائی حساس ہیں۔ چنانچہ ایسے کسی معاملہ کو لے کر صبح و شام میں ان کے درمیان ایک دھواں دار تحریک اٹھائی جاسکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page