Urdu book · قیادت نامه

قومی شریعت

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے جو رہنما فخر کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں مسئلہ پر لاکھوں مسلمانوں کا مجمع اکٹھا کر لیا وہ بھول جاتے ہیں کہ جس مسئلہ پر انھوں نے لاکھوں مسلمانوں کی بھیڑ جمع کی ہے وہ غیر قوم کی ناانصافی کا مسئلہ تھا۔ یہی رہنما اگر داخلی نا انصافی کے مسائل پر مسلمانوں کو پکاریں تو مجھے یقین ہے کہ انھیں ایسے پرفخر کلمات بولنے کی خوش قسمتی حاصل نہ ہو سکے گی۔ غیر قوم کی ناانصافی کے عنوان پر اگروہ بھرے ہوئے پنڈال میں بولنے کا موقع پا رہے ہیں تو داخلی ناانصافیوں کے نام پر کیے جانے والے جلسہ میں انھیں رہنماؤں کو یقینی طور پر خالی پنڈال میں خطاب کرنا پڑے گا۔ پچھلے پچاس برس کے اندر مسلم لیگ سے لے کر مسلم پرسنل لابورڈ تک ) بہت سی بڑی بڑی تحریکیں مسلمانوں نے اٹھائی ہیں۔ حتی کہ ان کے اٹھائے ہوئے گرد و غبار کے نتیجہ میں کبھی کبھی " زمین شش شد و آسمان ہشت شد " کا منظر پیدا ہو گیا ہے۔ مگر یہ تمام تحریکیں وہ ہیں جو غیروں کی ناانصافی کے نام پر اٹھائی گئیں۔ ان میں سے کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں جو مسلمانوں کی داخلی ناانصافی کے نام پر اٹھائی گئی ہو۔ حالاں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ غیر اقوام مسلمانوں کے اوپر جو ظلم کر رہی ہیں اس سے بہت زیادہ بڑا ظلم وہ ہے جو مسلمان خود اپنے ہم قوموں پر ہر روز کرتے ہیں اور کر رہے ہیں ۔ ایک اسلامی ادارہ نے ایک شہر میں عمارت خریدی اور وہاں اپنی شاخ قائم کی۔ اس شاخ میں ایک مسلمان کو مقامی انچارج بنایا گیا۔ اس مسلمان نے امانت میں خیانت کی۔ اس نے خفیہ طریقہ پر ایک بوگس رجسٹری کرائی اور اس بوگس رجسٹری کے ذریعہ اس عمارت کو اپنے نام کرا لیا۔ یہ واضح طور پر غصب اور بددیانتی کا معاملہ تھا۔ اس کا علم مسلمانوں کو اور مسلم رہنماؤں کو ہوا۔ مگر ان میں سے کوئی شخص نہ تھا جو اس معاملہ میں دخل دینے کی ضرورت سمجھے ۔ اس طرح کے معاملات آج ہر بستی اور ہر شہر میں پیش آرہے ہیں۔ ایک مسلمان موقع پا کر دوسرے مسلمان کی چیز پر قبضہ کر لیتا ہے۔ مگر مسلم عوام اور مسلم رہنماؤں میں کوئی نہیں جو ان معاملات کو لے کر اٹھے ۔ وہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک حق دار کو اس کا حق نہ دلائے ۔ دوسری طرف انھیں عوام اور رہنماؤں کا یہ حال ہے کہ اگر انھیں اس کی اطلاع ملے کہ مسلم قوم کی عمارت پر غیر مسلم قوم کے کسی شخص نے قبضہ کر لیا ہے تو وہ فوراً اس کے خلاف متحرک ہو جاتے ہیں۔ وہ بستر مرض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page