قومی شریعت
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
سے اٹھ کر اس کے لیے دوڑ پڑتے ہیں ۔ مسلمان اور غیر مسلمان کا معاملہ ہو تو شریعت پر آنچ آنا انہیں گوارا نہیں۔ لیکن اگر معاملہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو تو انہیں کوئی بے چینی نہیں ہوتی ، خواہ شریعت کے اعتبار سے وہ کتنا ہی زیادہ غلط کیوں نہ ہو۔ یہ عین وہی روش ہے جس کا الزام قرآن میں یہودیوں کو دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی کی تصدیق ہے ۔ مسلمانوں کا مسلم ۔ مسلم مسئلہ میں چپ رہنا ، اور مسلم۔ غیر مسلم مسئلہ میں احتجاج اور شکایت کی مہم چلانا بلاشبہ یہودی سنت ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اصولی دین داری کے مقام سے گر کر قومی دین داری کے مقام پر پہنچ چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک جگہ متحرک ہوتے ہیں اور دوسری جگہ متحرک نہیں ہوتے۔ اگر ان کا اسلام اصولی اسلام ہوتا تو وہ دونوں جگہ یکساں طور پر متحرک ہوتے، نہ کہ صرف اس جگہ جہاں معاملہ قومی نوعیت اختیار کرلے ۔ آج ہمارے عوام اور خواص دونوں یکساں طور پر اس یہودی سنت کی پیروی کر رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو جانا چاہیے کہ غیر مسلم نا انصافی پر مہم چلانا اس وقت تک اللہ کی نظر میں بے قیمت ہے جب تک وہ مسلمان نا انصافی پر بھی اسی قسم کی مہم نہ چلائیں۔ کیوں کہ اللہ کے نزدیک مسلمان کے اوپر مسلمان کا ظلم بھی اتنا ہی برا ہے جتنا کہ مسلمان کے اوپر غیر مسلمان کا ظلم ۔ اس قسم کی روش ان کی قومی شریعت میں خواہ کتنی ہی زیادہ اہم ہو، مگر الہی شریعت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader