اردو صحافت اور اخلاقیات
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
اردو صحافت اور اخلاقیات اردو صحافت اور اخلاقیات ــ با اعتبار واقعہ ایک متضاد ترکیب ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ غضبناک آدمی اور خوش اخلاقی ، نیم کی پتی اور شیرینی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاقیات ایک مثبت رویہ کا نام ہے ، اور اردو صحافت بطور واقعہ کبھی مثبت چیز تھی ہی نہیں۔ اردو صحافت تمام تر ردِ عمل کے طور پر ظہور میں آئی ۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ ردِ عمل ہی کے رویہ کا دوسرا نام منفی رویہ ہے۔ لکھنؤ کے ایک مسلم اخبار (قائد) نے ایک بار اردو صحافت کی پالیسی کو احتجاجی پالیسی کا عنوان دیا تھا ۔ اخبار مذکور نے یہ بات بطورِ فخر کہی تھی ، مگر میں اس کو بطورِ واقعہ تسلیم کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ صحیح ترین لفظ ہے جو اردو صحافت کے لیے بولا جا سکتا ہے ۔ اردو صحافت بنیادی طور پر ایک احتجاجی صحافت ہے ۔ اور احتجاجی صحافت بلا شبہ اخلاقیات کی نفی ہے ۔ اردو صحافت مسلم مسائل کو پیش کرنے کے لیے وجود میں آئی نہ کہ حقیقتِ واقعہ کو بیان کرنے کے لیے ۔ گویا کہ موجودہ اردو اخبارات مسلمانوں کے صحافی وکیل ہیں۔ وہ حقیقت کو غیر جانبدارانہ طور پر بیان کرنے والے نقیب نہیں ۔ " اخلاقیات " ایک مثبت اصطلاح ہے۔ اگر میں اخباری اخلاقیات کا تعین کروں تو اس کے اجزار سادہ طور پر غالباً حسب ذیل ہوں گے : ۱۔ مثبت نقطہ نظر کا حامل ہونا ، ایسا نقطہ نظر جو کسی قسم کے مخالفانہ حالات سے بطور رد عمل نہ بنا ہو ، بلکہ خود اپنی ایجابی غور و فکر سے وجود میں آیا ہو۔ ۲۔ حالات کے مطابق واقعہ رپورٹنگ ۔ ۳۔ قومی اور بین اقوامی مسائل کا منصفانہ تجزیہ۔ اب میں ان تینوں پہلوؤں کے اعتبار سے اردو صحافت پر مختصرراً اظہارِ خیال کروں گا۔ مثبت نقطہ نظر کا فقدان اردو صحافت کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اس طرح وجود میں نہیں آئی کہ اس کے بانیوں اور معماروں نے انسانی حقیقتوں پر غور کیا۔ انھیں اس قسم کی کوئی ابدی حقیقت دریافت ہوئی جیسی حقیقت ایک سائنس داں دریافت کرتا ہے اور پھر یہ لوگ اس دریافت سے بے چین ہو کر اس کے اظہار کے لیے صحافت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader