Urdu book · قیادت نامه

اردو صحافت اور اخلاقیات

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

کے میدان میں داخل ہوگئے ۔ اس کے برعکس اردو صحافت کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے تقریباً تمام صحافی جس ” اسکول آف جرنلزم “ میں بنے وہ ان کے وقتی حالات تھے ۔ وہ اپنے وقتی اور قریبی حالات سے متاثر ہوئے اور اس کے بعد وہ اپنی جوابی نفسیات کے اظہار کے لیے صحافت کے میدان میں کود پڑے۔ ان میں سے کسی نے اپنے اخبار کا نام سیدھے طور پر ” ندائے ملت “ رکھ دیا اور کسی نے بظاہر دوسرا نام رکھا ۔ مگر ہمارا ہر اخبار حقیقۃ ندائے ملت ہوتا ہے نہ کہ ندائے حقیقت ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اردو صحافت ، وہ اردو صحافت جس کی نمائندگی اس ملک میں مسلمانوں نے کی ہے، وہ اپنے آغاز ہی سے رد عمل کی پیداوار رہی ہے ۔ مسلمانوں کے تمام اردو اخبارات کسی نہ کسی ” دشمن اسلام “ کے خلاف رد عمل کے طور پر وجود میں آئے ۔ دہلی کے ایک اخبار نے اپنے صفحہ اوّل کی ایک جلی سرخی ان الفاظ میں قائم کی تھی : " آگ اور خون میں نہائے ہوئے مسلمان سوال کرتے ہیں “ یہ سرخی بتاتی ہے کہ اردو اخبارات کس قسم کے ذہن کے تحت چلائے جا رہے ہیں ۔ وہ ذہن یہی ہے کہ وہ ” خون آلود “ مسلمانوں کے نمائندہ بن کر ان کی طرف سے ان کے ” مفروضہ “ دشمنوں کے خلاف مضامین اور خبریں چھاپتے رہیں ۔ اردو صحافت ایک قسم کی وکیلا نہ صحافت ہے نہ کہ کوئی اخلاقی صحافت ۔ وکیلا نہ رویہ اور اخلاقی رویہ میں یہ فرق ہے کہ وکیل صرف اپنے موکل کو دیکھتا ہے اور اخلاقی رویہ کی نگاہ ہمیشہ وسیع تر حقیقتوں کی طرف ہوتی ہے ۔ وکیل محدود مفاد کا نمائندہ ہوتا ہے اور اخلاق آفاقی صداقت کا نمائندہ ۔ یہ بات اردو صحافت میں اتنی زیادہ عام ہے کہ وہی اخبارات سب سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ وکیلا نہ رویہ کا مظاہرہ کریں ۔ لکھنو کا ایک اخبار جس کی اشاعت ۱۹۶۵ میں بمشکل ایک ہزار رکھتی وہ ۶۸ - ۱۹۶۷ میں مخالف کانگریس تحریک (Non-Congressism) میں شریک ہو گیا ۔ اس نے دھواں دھار طور پر مسلمانوں کی موافقت اور ” فرقہ پرست حکومت “ کی مخالفت شروع کر دی ۔ وہ نام نہاد ” معاہداتی سیاست “ کا نقیب بن گیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی اشاعت اچانک ایک ہزار سے بڑھ کر سولہ ہزار تک پہنچ گئی ۔ بعد کو جب معاہداتی سیاست ناکام ہو گئی تو اس اخبار کی اشاعت دوبارہ ایک ہزار سے بھی کم تھی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page