Urdu book · قیادت نامه

ایک ہی سبب

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ہی سبب ۱۶ مئی ۱۹۸۷ء کا واقعہ ہے۔ بھیونڈی کے مسلمانوں نے اسلامی عظمت کے اظہار کے لیے شہر میں سبز جھنڈے لہرانے کا پروگرام بنایا۔ جھنڈے کے پرجوش مجاہدین اپنی اس مہم کے دوران ایک ایسے مقام پر پہونچے جو روایتی طور پر شیو سینا کی جگہ سمجھی جاتی تھی۔ مسلمان اس پر چڑھ گئے اور انھوں نے وہاں اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ اس پر مسلمانوں میں اور شیو سینا کے کارکنوں میں تکرار ہوئی۔ یہ تکرار بڑھتی گئی یہاں تک کہ امنی کو بھیونڈی میں فساد پھوٹ پڑا۔ اس فساد میں بھیونڈی اور اطراف کے علاقوں میں بڑے پیمانہ پر لوگ قتل ہوئے اور لوٹ اور آتش زنی میں تقریباً ایک ارب روپیہ کا نقصان ہوا۔ اس نقصان کا بیشتر حصہ قدرتی طور پر مسلمانوں کو ملا۔ اس واقعہ کے تین سال بعد ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء کو ٹھیک اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہوتا ہے۔ اس دوسرے واقعہ کا مرکز کراچی ہے۔ کراچی میں اس وقت مسلمانوں کی دو تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ایک کا نام ہے پنجابی پٹھان اتحاد (پی پی آئی) اور دوسری کا نام ہے مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) مذکورہ تاریخ کو پی پی آئی نے اپنے جھنڈے کا مظاہرہ کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس دوران اس کے پرجوش کارکنوں نے ایک ایسی عمارت کے اوپر اپنا جھنڈا گاڑ دیا جو ایم کیو ایم کے خیال کے مطابق اس کے گروہ کی تھی۔ ایم کیو ایم نے جھنڈا نصب کرنے کی اس کارروائی پر اعتراض کیا۔ اس پر دونوں فریقوں میں تکرار ہو گئی جو بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ باقاعدہ جنگ شروع ہوگئی اور دونوں طرف سے آٹومیٹک رائفلیں اور ریوالور چلنے لگے۔ کراچی سے گزر کر یہ فساد حیدر آباد (سندھ) تک پہونچا۔ اس جنگ میں دونوں مقامات پر کئی درجن آدمی مارے گئے۔ کثیر تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ سیکڑوں دکان اور مکان اور سواریاں جزئی یا کلی طور پر جلا دی گئیں (ہندوستان ٹائمز، ۲ اگست ۱۹۸۸ء ٹائِمْس آف انڈیا ۲۹ اگست ۱۹۸۸ء) یہ دونوں واقعات بالکل ایک قسم کے واقعات ہیں۔ اس لیے جب ہم ان کا سبب جانتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page