Urdu book · قیادت نامه

ایک ہی سبب

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہیں تو ہمیں ان کی توجیہہ کے لیے ایک ہی مشترک سبب تلاش کرنا ہوگا جو دونوں واقعات پر یکساں طور پر چسپاں ہوتا ہو۔ اگر ہم یہ کہیں کہ بھیونڈی کا فساد " ہندو وشتر پندوں " نے کیا تو کراچی کے ٹھیک اسی قسم کے فساد کے لیے یہ الفاظ ناکافی ہوں گے۔ کیوں کہ کراچی میں " ہندو شتر پند" عنصر سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ایسی توجیہہ جو ایک واقعہ پر چسپاں ہو اور دوسرے واقعہ پر چسپاں نہ ہوسکے، کسی متعصب اور جانبدار ذہن کو تو اپیل کر سکتی ہے۔ مگر وہ سنجیدہ اور حقیقت پسند انسانوں کو اپیل نہیں کر سکتی۔ جب ہم اس حیثیت سے غور کرتے ہیں تو ہم کو ایک ہی مشترک توجیہہ ملتی ہے جو دونوں واقعات پر یکساں طور پر چسپاں ہوتی ہو۔ اور وہ توجیہہ ہے ــــــــــ انسان کی انا کو چھیڑنا۔ یہ ایک اتفاقی بات تھی کہ بھیونڈی میں ایک فریق مسلمان تھا اور دوسرا فریق ہندو۔ جب کہ کراچی میں دونوں ہی فریق یکساں طور پر مسلمان تھے۔ اس ظاہری فرق سے قطع نظر، دونوں جگہ سبب ایک تھا۔ بھیونڈی میں مسلمان نے ہندو کی انا کو چھیڑا اور پھر اس کی سزا بھگتی۔ کراچی میں مسلمان نے مسلمان کی انا کو چھیڑا اور اس کی سزا بھگتی۔ فساد کی حقیقت کیا ہے اور فسادات کیوں ہوتے ہیں ، اس کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ ــــــــــ جب ایک شخص کی انا کو چھیڑا جائے تو وہ بڑا انا بن جاتا ہے، اور اس کا نتیجہ فساد ہوتا ہے : When one's ego is touched, it turns into super-ego, and the result is breakdown. پٹرول کے ذخائر کے درمیان ماچس جلائی جائے تو اس کے نتیجہ میں شدید اندیشہ ہے کہ آگ بھڑک اٹھے اور وہ آس پاس کی تمام چیزوں کو جلا ڈالے۔ اسی طرح ہر آدمی اپنے سینہ میں ایک نہایت تیز قسم کا آتش گیر مادہ لیے ہوئے ہے جو معمولی ٹھیس سے بھڑک اٹھتا ہے اور کچھ دیر کے لیے آدمی کو بے قابو بنا دیتا ہے۔ یہ مادہ انا (ایگو) ہے۔ پٹرول کے ذخائر کے درمیان دھماکہ سے بچنے کا واحد راز یہ ہے کہ وہاں ماچس نہ جلائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page