Urdu book · قیادت نامه

عمل کے نام پر بے عملی

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل کے نام پر بے عملی شیخ محمد اکرام (آئی سی ایس) کی کتاب "موج کوثر" ۳۶۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں انیسویں صدی کے آغاز سے لے کر ۱۹۴۷ء تک کی مسلم تحریکوں اور رہنماؤں کا ذکر ہے۔ اس کے ایک باب کا عنوان ہے " دورِ رد عمل کی خصوصیات " اس باب کے تحت وہ لکھتے ہیں: " دورِ رد عمل میں " پدرم سلطان بود " اور " ہمچو ماد دیگرے نیست " کی آوازیں جس طرح بلند ہوئیں، اس پر دیدہ ور لوگوں نے کان کھڑے کئے اور آنکھیں دکھائیں۔ علامہ شبلی نے، جب وہ ابھی علی گڑھ سے وابستہ تھے اور سرسید کے رفیق کار تھے، اُن خدشات کو بڑے لطف سے نظم کیا جو سلف پرستی سے پیدا ہونے والے تھے: سلف کا تذکرہ جو ہمت و غیرت کا ہے افسوس ہمارے حق میں وہ سرمایہ خواب پریشاں ہے یہ افسانے بڑھاتے ہیں ہماری نیند کی شدت یہ افسوں حق میں اپنے اور مدہوشی کا ساماں ہے ہمیں احساس تک ہوتا نہیں اپنی تباہی کا کہ سب پیشِ نظر اسلاف کی وہ شوکت و شاں ہے ہماری کلفتیں سب دور ہو جاتی ہیں یہ سن کر کہ دنیا آج تک اسلام کی ممنونِ احساں ہے مزے لیتے ہیں پہروں تک کسی سے جب یہ سنتے ہیں کہ یورپ دولتِ عباس کا اب تک نناخواں ہے نہیں رہنے کویاں گھر تک، گرچہ چے یہ رہتے ہیں کہ اب تک قصرِ مرا قبلہ گاہِ رہ نورداں ہے ہیں خود اَن پڑھ، مگر اس زعم میں اترائے پھرتے ہیں کہ دنیا میں ہمیں سے زندہ اب تک نامِ پُوراں ہے نظر آتے ہیں، ہم کو عیب اپنے خوبیاں بن کر ہم اپنے جہل کو بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عرفاں ہے نواب عماد الملک بلگرامی نے بھی اس کے چند سال بعد علی گڑھ ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں کہا: ہم مسلمانوں میں آج کل ایک نیا مرض شائع ہو گیا ہے۔ جس کو اسلاف پرستی کہتے ہیں... ان حضرات نے آفت بر پا کر دی ہے۔ کوئی مسلمانوں کی علمی دولت کو شمار کرتا ہے۔ کوئی تمدنی خوہ بیاں گنتا ہے۔ کوئی ہمارے مدارس اور یونیورسٹیوں کی فہرست تیار کرتا ہے۔ کوئی ہماری یونانی کتابوں کے ترجموں کا حساب دیتا ہے۔ کوئی اندلس کی حکومت کا زور دکھاتا ہے۔ کوئی ہارون اور مامون کی شان بیان کرتا ہے۔ اس میں شک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page