Urdu book · قیادت نامه

عمل کے نام پر بے عملی

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں کہ اسلاف پرستی بہت عمدہ شیوہ ہے مگر اسی حد تک کہ ہم اپنے بزرگوں کی محنت، ان کی یک رنگی، ان کی نفس کشی کی تقلید کریں اور ان کا سا صبر و استقلال، ان کا سا انہماک طلب علم میں پیدا کریں ۔۔۔ نہ یہ کہ ہمارے بزرگوار جو کچھ اپنے وقت میں کر گئے تھے ، ان پر غرہ کریں اور مثل زن بیوہ کے ان کے نام پر بیٹھے رہیں اور ان کی علمی بزرگوں کا تذکرہ دوسروں سے سن کر زمانہ حال کی دولت علمی کو حقیر سمجھیں اور اس کے دریافت سے اغماض کریں۔“ (موج کوثر، ص ۸۳- ۲۸۲) اس زمانہ میں مسلمانوں کے احیاء نو کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ سمجھ لی گئی تھی کہ ماضی کی شاندار تاریخ کو یاد دلا کر لوگوں میں حال کا ولولہ پیدا کیا جائے۔ یہ مزاج اتنا بڑھا کہ خود مولا نا شبلی نعمانی اس کا شکار ہو گئے جنھوں نے ابتدائی طور پر اس کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ چنانچہ بعد کے زمانہ میں انھوں نے خود بھی یہی کیا کہ دور فتوحات کے کارنامے بتا کر مسلمانوں میں جوش عمل پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ مگر یہ طریقہ سراسر بے فائدہ تھا۔ اس تدبیر میں بنیادی خامی یہ تھی کہ وہ ”تیاری “ کے دور کو حذف کرکے صرف ”نتیجہ“ کے دور کو نمایاں کر رہا تھا۔ وہ ابتدائی جدوجہد کو چھوڑ کر آخری منزل سے اپنے سفر کا آغاز کرنا چاہتا تھا۔ ایسا سفر اس اسباب کی دنیا میں کبھی شروع نہیں ہوتا۔ چنانچہ سو سال کے پرجوش لفظی ہنگاموں کے باوجود وہ شروع بھی نہ ہو سکا ، اور منزل پر پہنچنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ اس قسم کی تحریکیں آدمی کے اندر صرف فخر کا جذبہ ابارتی ہیں۔ حالاں کہ احیاء نو کے لئے اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عمل کا جذبہ ابھارا جائے ۔ اس طرح یہ طریقہ ہمیشہ الٹ نتیجہ پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی وہ ہمارے حق میں ثابت ہوا۔ مسلمان فرضی بھرم میں مبتلا ہو کر ایک ایسی قوم بن گئے جس کے پاس الفاظ کی دھوم تو بہت ہے مگر حقیقی عمل کا سرمایہ اس کے پاس موجود نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page