عمل کے نام پر بے عملی
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
احیائے قلب ، احیائے حکومت انسانوں کے اندر جب بھی بگاؤ آتا ہے تو اس کی جڑ ہمیشہ قلب میں ہوتی ہے۔ قلب کے بگاڑ سے زندگیاں بگڑ جاتی ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ کیا لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے قلب ہوتے جن سے وہ سمجھتے یا ان کے کان ہوتے جن سے وہ سنتے۔ کیوں کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ قلب اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں (الحج (۴۶) یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ سن لو کہ انسانی جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، اور وہ قلب ہے، الا و ان في الجسد مضغۃ اذا اصلحت صلح الجسد كله واذا افسدت فسد الجسد كله الا وهى القلب ( متفق عليه) جب ہر قسم کے انسانی بگاڑ کا سرچشمہ قلب ہے تو ہر بگاڑ کے موقع پر ہمیشہ اصلاح کا آغاز قلب کی اصلاح سے ہونا چاہیئے ۔ اس سلسلہ میں قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجئے: کیا ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے قلب اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے آسمانی کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے ، اور ان میں سے اکثر نا فرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد ۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں بیان کر دی ہیں تا کہ تم سمجھو (الحدید ۱۶ - ۱۷) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں پر لمبی مدت (طول امد ) گزرنے سے افراد کے قلوب میں سختی (قساوت) آجاتی ہے۔ اس سے ان کے اندر باتوں کو سمجھنے اور اس سے اثر لینے کا مادہ ختم ہو جاتا ہے۔ جب کسی قوم کا یہ حال ہو جائے تو اس وقت کیا کرنا چاہئے، اس کو زمین کی مثال کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔ جو زمین خراب ہو جائے ، اس میں کام کا آغاز فصل بونے سے نہیں کیا جاتا، بلکہ زمین تیار کرنے سے کیا جاتا ہے۔ ایسی زمین سے پہلے اینٹ پتھر اور جھاڑ جھنکار صاف کیا جاتا ہے۔ اس کو ہموار کیا جاتا ہے۔ اس کی جتائی کر کے اس کو زرخیز بنایا جاتا ہے۔ پانی اور کھاد کا انتظام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader