Urdu book · قیادت نامه

تعمیر کے نام پر تخریب

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان بننے کے بعد وہاں نواب زادہ لیاقت علی خاں کی حکومت قائم ہوئی ۔ اس وقت سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی نے کچھ ایسے ”غیر پسند عناصر “ پالے جن کے ساتھ مل کر وہ لیاقت علی خاں کی ” غیر اسلامیت “ کے خلاف ہنگامہ آرائی کر سکیں ۔ یہ تحریک اس طرح ختم ہوگی کہ ١٩۔ میں ایک شخص نے لیاقت علی خاں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان میں اکھڑ پچھاڑ ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ ١٩٥٨ میں جنرل محمد ایوب خاں بر سر اقتدار آ گئے۔ اب سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان پر منکشف ہواکہ جنرل ایوب خاں کی حکومت پہلے سے بھی نہ زیادہ بری ہے۔ یہ قاعدہ ہے کہ سماج میں ہمیشہ قائم شدہ نظام کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی کو دوبارہ کچھ تخریب پسند عناصر مل گئے اور انہوں نے جنرل محمد ایوب خاں کے خلاف ہنگامہ آرائی کی سیاست شروع کردی یہ سیاست مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی آخر کار اس منزل تک پہنچی کہ گیارہ سالہ اقتدار کے بعد جنرل ایوب کو تخت سے ہٹ جانا پڑا۔ اس کے بعد الیکشن ہوا جس کے نتیجہ میں ؂۱۹ میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان میں بر سر اقتدار آگئے۔ اب سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان پر دوبارہ اس سیاسی حقیقت کا انکشاف ہوا کہ بھٹو کا دور ایوب کے دور سے بھی زیادہ برا ہے۔ چنانچہ دوبارہ انہیں اپنے سیاسی جہاد کے لئے ساتھیوں کی تلاش ہوئی جو حسب معمول بہت جلد حاصل ہو گئے۔ مسٹر بھٹو کے خلاف یہ مہم بالآخر اس شکل میں کامیاب ہوئی کہ ؂۱۹۷۷ میں پاکستان میں جنرل محمد ضیاء الحق کا اقتدار قائم ہو گیا ۔ اور بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان نے ابتداً اپنے سیاسی مقاصد کے تحت جنرل ضیاء الحق کا مکمل ساتھ دیا۔ مگر تازہ ترین خبروں کے مطابق ان علم بر داران انقلاب پر دوبارہ یہ حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ جنرل ضیاء کا دور حکومت بھٹو کے دور حکومت سے بھی زیادہ برا ہے۔ پاکستان کی جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اس سلسلے میں مفصل قرار دادیں پاس کی ہیں ۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے متعلق اس کی قرار داد کا ایک حصہ حسب ذیل ہے: " جنرل محمد ضیاء الحق کی حکومت اور اس کی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کے سکون کو جس بے دہی اور بے دردی سے تہ و بالا کر دیا ہے اس نے پوری قوم کے ہر خیر خواہ کو سخت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page