Urdu book · قیادت نامه

داخلی احتساب

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

يدالمسیء ولتأطير نه على الحق أطرا اوليضربن الله قلوب بعضكم على بعض اولي لعنكم كما لعنهم - عن حذيفة بن الیمان ان النبی صلى الله عليه وسلم قال والذى نفسی بیده لتامرن بالمعروف ولتنهون عن المنکر اوليوشكن الله ان يبعث عليكم عقابا من عنده ثم لتدعنه فلا يستجيب لكم ۔ عن عدى بن عميرة رضى الله عنه قال سمعت النبی صلى الله عليه وسلم يقول ان الله لا يعذب العامة بعمل الخاصة حتى يروا المنكر بين ظهرانيهم وهم قادرون على ان ينكروه فلا ينكرونه فاذا فعلوا ذلك عذب الله الخاصة والعامة - (تفسیر ابن کثیر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ ان کا ایک آدمی جب اپنے بھائی کو برائی کرتے ہوئے دیکھتا تو وہ پہلی بار اس کو منع کرتا۔ مگر جب اگلا دن آتا تو جو کچھ اس نے دیکھا تھا وہ اُس کو اس سے نہ روکتا کہ وہ اس کے ساتھ کھائے اور اس کے ساتھ اُٹھے بیٹھے۔ پس جب اللہ نے ان کے اندر یہ بات دیکھی تو ان کے دلوں کو ایک دوسرے میں خلط ملط کر دیا۔ اور اپنے پیغمبر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ ایسا اس لیے ہوا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے گزر جانے والے لوگ تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم کو ضرور ایسا کرنا ہو گا کہ تم (اپنے لوگوں کو) اچھائی کا حکم دو اور ان کو برائی سے روکو اور غلط کار کا ہاتھ پکڑ لو اور اس کو حق کی طرف موڑ دو۔ ورنہ اللہ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے سے خلط ملط کر دے گا یا تم پر لعنت کرے گا جس طرح اس نے یہود پر لعنت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم ضرور (اپنے لوگوں کو) اچھائی کا حکم دوگے اور ضرور برائی سے روکو گے۔ ورنہ قریب ہے کہ اللہ تمہارے اوپر اپنے پاس سے عذاب بھیج دے۔ پھر تم اللہ کو پکارو مگر وہ تمہاری پکار کو نہ سنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ بعض لوگوں کے عمل کی سزا عام لوگوں کو نہیں دیتا یہاں تک کہ ان کا یہ حال ہو جائے کہ وہ برائی کو اپنے (لوگوں کے) درمیان دیکھیں اور وہ اس کا انکار کرنے پر قادر ہوں پھر بھی وہ اس کا انکار نہ کریں۔ پس جب وہ ایسا کرتے ہیں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page