Urdu book · قیادت نامه

داخلی احتساب

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ خاص وعام سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مذکورہ آیت اور مذکورہ احادیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے بارہ میں بھی خدا کا عین وہی قانون ہے جو اس سے پہلے یہود کے بارے میں تھا۔ اس اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو موجودہ فسادات وہی خدائی حکم نظر آنے لگتے ہیں جن کی پیشگی خبر حدیث میں دیدی گئی تھی۔ اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے لعنت کی کوئی صورت نہ ہو۔ لعنت کے معنی ہیں خیر سے بعید کر دینا۔ موجودہ مسلمان شاید خدا کی رحمت سے دور کر دیئے گئے ہیں۔ وہ ہر صبح وشام اپنے ” دشمنوں کی بربادی کی دعائیں کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ ان کے کچھ شر انگیز عناصر فساد کرتے ہیں اور اس کے بعد پوری قوم کو اس کی بدترین سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ یہ تمام علامتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ مسلمانوں پر شاید وہ کہ نازل ہو چکا ہے جس کے نازل ہونے کا اندیشہ ان کے پیغمبر نے ظاہر کیا تھا۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ مسلمانوں میں بے قیدی اور بے راہ روی عام ہوگئی ہے۔ وہ بات بات پر لڑنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ چنانچہ تمام فرقہ وارانہ فسادات خود مسلمانوں کے بعض عناصر کی شر انگیز کارروائیوں سے شروع ہوتے ہیں۔ پھر جب فساد بڑھتا ہے تو پوری قوم کو اس کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ یہ صورت حال بار بار پیش آرہی ہے اور تمام مسلمان اس کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ مگر مسلمانوں میں کوئی بھی قابل ذکر گروہ نہیں جو اپنے ان مجرموں کو کندم کرے اور ان کا ہاتھ پکڑنے کے لیے کھڑا ہو۔ مسلمانوں میں ایسے قائدین تو بہت ہیں جو حکومت (یا غیر مسلم فرقہ) کے خلاف تقریراور بیانات کی دھوم مچانے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں ایسے مجاہدین بھی ہیں جو زمانہ کی کلائی موڑنے اور ساری کائنات کا احتساب کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔ مگر ان کے درمیان کوئی بھی ایسا قائد نہیں جو مسلمانوں کے اوپر محتسب بن کر کھڑا ہو۔ جو ان مسلمانوں کے خلاف دھوم مچائے جو برادران وطن کے ساتھ اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کی انا کو بھڑکا کر پوری قوم کو آگ اور خون میں نہلانے کا سبب بن جاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page