Urdu book · قیادت نامه

حقیقت بے نقاب

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت بے نقاب بابری مسجد کی بازیابی کے لئے "اجودھیا مارچ" کی تحریک طوفان کی طرح اٹھی اور غبارہ کی طرح پھٹ گئی۔ بظاہر یہ ایک المناک حادثہ تھا۔ تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ جو غبارہ پھٹا، وہ نام نہاد مسلم قیادت کا غبارہ تھا۔ ملت ابتدائی طور پر قائدین کا ساتھ دینے کے بعد آخر کار ان سے الگ ہو گئی، اور اس طرح وہ ان قائدین کے فتنہ سے بچ گئی جو اس کو حوالہ آتش کر کے اپنے جھوٹے قیادت چہرہ کو روشن کرنا چاہتے تھے۔ بابری مسجد کا قضیہ بہت پرانا ہے۔ وہ تقسیم (۱۹۴۷ء) کے قبل سے چلا آرہا ہے۔ تاہم پر امن تدبیر کے دائرہ سے نکل کر ایجی ٹیشن کے دائرہ میں داخل ہونے کا دور ۱۹۸۰ء کی ابتدا سے شروع ہوتا ہے۔ کچھ نام نہاد مسلم لیڈروں نے بابری مسجد کی بازیابی کے نام پر ۲۶ جنوری ۱۹۸۷ء کو ریپبلک ڈے کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ یہ اس معاملہ میں غیر پر امن انداز اختیار کرنے کا آغاز تھا۔ تاہم یہ لغو اقدام اخباری گرمی پیدا کرنے کے بعد آخر وقت میں واپس لے لیا گیا۔ اس کے بعد ۳۰ مارچ ۱۹۸۷ء کو "لاکھوں" مسلمانوں کی ریلی نئی دہلی روٹ کلب میں جمع ہوئی۔ یہاں نہایت اشتعال انگیز تقریریں ہوئیں اور "بابری مسجد لیکے رہیں گے" جیسے پر جوش نعرے لگائے گئے۔ (ملاحظہ ہو الرسالہ نومبر ۱۹۸۸ء، صفحہ ۲۳) لیڈروں نے اپنی دھواں دھار تقریروں کے دوران اعلان کیا کہ وہ مارچ کر کے اجودھیا جائیں گے اور مسجد میں فاتحانہ داخل ہو کر وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد دسمبر ۱۹۸۷ء کی میٹنگ میں دو مارچ کا فیصلہ کیا گیا: ۱۔ قائدین کا ممبئی مارچ ۱۲ اگست ۱۹۸۸ ۲۔ مسلم عوام کا لانگ مارچ ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۸ اعلان کے مطابق دونوں مارچ فیض آباد سے شروع ہو کر اجودھیا کی بابری مسجد ختم ہونے والا تھا۔ پہلا مارچ تقریباً پانچ سو کی تعداد میں قائدین اور مسلم نمائندوں پر مشتمل ہوتا اور دوسرے مارچ میں سارے ملک کے مسلم عوام لاکھوں کی تعداد میں فیض آباد میں جمع ہوتے اور وہاں سے یلغار کرتے ہوئے اجودھیا پہنچتے اور بابری مسجد میں داخل ہو جاتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page