Urdu book · قیادت نامه

حقیقت بے نقاب

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر عملاً نہ منی مارچ ہو سکا اور نہ لانگ مارچ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ادھر مسلم قائدین کی طرف سے ایودھیا مارچ کا اعلان ہوا۔ دوسری طرف رام جنم بھومی سنگھرش سمتی ، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی انتہا پسند ہندو تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ مسلمانوں کے چیلنج نے ان کو نئی زندگی دے دی۔ انھوں نے کھلے طور پر کہنا شروع کیا کہ اگر مسلمانوں نے ایودھیا مارچ کیا تو انھیں ایودھیا پہنچنے سے پہلے کچل دیا جائے گا۔ اس کے بعد مسلم قائدین کی طرف سے یہ بہانہ نکال کر ۱۲ اگست کے مارچ کو ملتوی کر دیا گیا کہ مرکزی حکومت اس معاملہ میں دلچسپی لے رہی ہے، اور وہ دونوں فریقوں سے بات چیت کر کے اس مسئلہ کا ایسا حل نکالنا چاہتی ہے جو دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہو۔ قومی آواز ( ۲۷ ستمبر ۱۹۸۸) کی رپورٹ کے مطابق، ۲۶ ستمبر کو نئی دہلی میں بابری مسجد تحریک کی مرکزی رابطہ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ رابطہ کمیٹی نے موجودہ حالات کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ ۴ نومبر ۱۹۸۸ کو لاکھوں مسلمانوں کا جو عوامی مارچ ہونے والا تھا، اس کو ابھی ملتوی کر دیا جائے۔ البتہ اسی تاریخ (۴) اکتوبر) کو قائدین تحریک کا دہ مارچ ہوگا جو اس سے پہلے ۱۲ اگست ۱۹۸۸ کو کیا جانا طے تھا۔ بابری مسجد تحریک کے نام نہاد لیڈ ر مسلسل یہ اعلان کرتے رہے کہ " ایودھیا مارچ ضرور ہوگا “ مثلاً قومی آواز (۸ اکتوبر ۱۹۸۸) کے مطابق ، بابری مسجد رابطہ کمیٹی کے کنوینر نے اعلان کیا کہ " مارچ کو ملتوی کرنے یا ختم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“ اسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ ” رابطہ کمیٹی نے وزیر اعلیٰ اتر پردیش نرائن دت تیواری سے تحریری درخواست کی ہے کہ وہ مارچ میں حصہ لینے والے مسلم رہنماؤں کو تحفظ مہیا کریں “ (قومی آواز ، ۸ اکتوبر ۱۹۸۸ ، صفحہ ۱) بابری مسجد تحریک کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کی طرف سے ایک اخباری اعلان اس مضمون کا شائع ہو کہ : ”کچھ اخباروں کے ذریعہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایودھیا مارچ، جس میں ملک کے طول و عرض سے رضا کار حصہ لینے والے ہیں ، ملتوی ہوگیا ہے۔ ایودھیا مارچ ملتوی نہیں ہوا ہے، اور اس کی تاریخ ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۸ ہے۔ تمام ریاستی و ضلع اور شہر ایکشن کمیٹیوں سے اپیل ہے کہ وہ ایودھیا مارچ کی تیاری جاری رکھیں۔ محلے محلے، مسجد مسجد، رضا کاروں کا اندراج جاری رہے۔ اور قصبہ بہ قصبہ ، محلہ بہ محلہ ٹولیاں بنائی جائیں۔ اور ان کے مصارف سفر کے لئے وسائل جمع کئے جائیں۔ ریل یا بس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page