حقیقت بے نقاب
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
سے فیض آباد ۱۳ اکتوبر تک پہنچنے کا پروگرام بنایا جائے“ (سه روزه دعوت، یکم اکتوبر ۱۹۸۸) بابری مسجد تحریک کے قائدین ۱۳ اکتوبر سے پہلے مسلسل یہی خبر نشر کرتے رہے کہ اجودھیا مارچ ۴ اکتوبر کو ضرور ہوگا، وہ ختم یا ملتوی ہونے والا نہیں۔ اس طرح کے اعلانات اور تقریروں نے کٹر ہندوؤں کو مزید ابھارا۔ انھوں نے مارچ کو ناکام کرنے کے لئے جوابی منصوبہ بنانا شروع کیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے جو کچھ کیا، ان میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے مجوزہ مارچ سے پہلے ۸ اکتوبر ۱۹۸۸ کو یوپی میں ایک بند منایا۔ یہ بند تجویزہ اجودھیا مارچ کے خلاف تھا۔ اس موقع پر جگہ جگہ اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں۔ اس کے نتیجہ میں تناؤ بڑھا اور یوپی کے کئی مقامات مظفر نگر، علی گڑھ، بہرائچ، جھانسی کھتولی، فیض آباد، گوپال گنج وغیرہ میں فساد ہو گیا۔ اس میں بہت سے مسلمانوں کی جانیں گئیں اور انھیں زبردست مالی نقصانات ہوئے۔ نام نہاد قائدین کی طرف سے بدستور یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ اجودھیا مارچ ضرور ہوگا۔ اسی کے ساتھ بار بار حکومت سے یہ مطالبہ بھی جاری تھا کہ وہ مارچ میں حصہ لینے والوں کے لئے تحفظ فراہم کرے، مگر حکومت نے تحفظ کی یقین دہانی کرنے سے عملاً انکار کر دیا۔ اس کے برعکس حکومت نے کہا کہ آپ لوگ اپنا مارچ ملتوی کر دیں۔ ہم دونوں فریقوں سے بات چیت کر کے کسی متفقہ حل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ مسلم قائدین بار بار یہ اعلان کر چکے تھے کہ اجودھیا مارچ مجوزہ تاریخ کو ضرور ہوگا، وہ کسی بھی حال میں رکنے والا نہیں۔ مگر ایک طرف انھوں نے دیکھا کہ حکومت ان کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایسی حالت میں مارچ کرنا، اپنے آپ کو فریق ثانی کی جارحیت کے حوالے کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ دوسری طرف ۸ اکتوبر ۱۹۸۸ کو ہندوؤں کی کٹر جماعتوں نے جو بند منایا، اس کے نتیجہ میں یوپی کے مختلف علاقوں میں خون ریز فسادات ہوئے۔ نیز اس قسم کے دوسرے سخت اسباب نے ظاہر کر دیا کہ اب اگر اجودھیا مارچ کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف تشدد کا ہونا یقینی ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر خود مسلم عوام بھی مارچ میں اپنی دلچسپی کھو چکے تھے۔ موت کے سفر میں شرکت کرنے کے لئے وہ پر جوش نہیں رہے تھے۔ واضح علامات کی بنا پر قائدین نے محسوس کیا کہ موجودہ حالات میں اگر وہ مارچ کرتے ہیں تو انھیں مسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader