Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اس نظام کے ٹوٹنے کا ذکر مشہور فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین (وفات : 1935) نے ان الفاظ میں کیا ہے ــــ اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا۔ تاریخ کا روایتی ڈھانچہ اکھاڑ کر پھینک دیا گیا: Islam change the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne, History of Western Europe, p. 46) مغربی تہذیب کے دو پہلو فطرت کے رموز کو آشکارا کرنے کا جو کام اہل مغرب کے ذریعے انجام پایا، اس کے بھی دو پہلو تھے۔ ایک اعتبار سے وہ خدا کی تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیوں (signs) کا اظہار تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے انسان کی رسائی لامحدود قسم کی مادی طاقتوں تک ہوگئی۔ مثلاً اہل مغرب کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کر سکیں۔ وہ لوہے کو متحرک انجن کی شکل دے دیں۔ وہ پٹرول کے ذریعے اڑتی ہوئی سواری (ہوائی جہاز) کی ایجاد کریں۔ وہ ماڈرن کمیونکیشن کے عالمی ذرائع ابلاغ کو وجود میں لائیں ، وغیرہ۔ علوم فطرت پر اہل مغرب کی اس دست رس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کو ساری دنیا میں مادی طور پر غلبے کا مقام مل گیا۔ اِس غلبے کی بابت دو حوالے یہاں قرآن اور حدیث سے نقل کیے جاتے ہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 21 میں اِس سلسلے کی ایک متعلق آیت موجود ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے ، اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے : Until such a time as Gog and Magog are let loose upon the world, and swarm down from every corner of the earth (21: 96) قرآن کی اِس آیت میں واضح طور پر اِس جدید ظاہر ہ کی طرف اشارہ ہے، جس کو ماڈرن کمیونکیشن (modern communication) کہا جاتا ہے۔ اہل مغرب نے فطرت میں اپنی دریافتوں کے ذریعے انتہائی تیز رفتار ذرائع پیدا کیے۔ پیغامات کی ترسیل، انسانی سفر، اشیاء کے حمل ونقل، ہر چیز میں ایسی غیر معمولی تیز رفتاری آ گئی، جس کا پچھلی نسلوں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔ رموزِ فطرت کا انکشاف ایک ایسا کام ہے جس کو مذہبی لوگ اپنے تقدس پرستانہ ذہن کی وجہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page