Urdu book · قیامت کا الارم

یاجوج اور ماجوج کی دیوار

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اصحابِ رسول کے ذریعے شرک کا خاتمہ اور توحید پر مبنی انقلاب کا برپا ہونا۔ ساتویں صدی عیسوی کے نصفِ اول میں جو مذکورہ انقلاب برپا ہوا، وہ دوبارہ ایک نئے انقلاب کا نقطۂ آغاز (starting point) تھا۔ اس دوسرے انقلابی عمل کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ واقعہ تھا جو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کی صورت میں پیدا ہوا۔ موجودہ سائنسی انقلاب بظاہر ایک سیکولر انقلاب تھا، لیکن اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر اسلامی انقلاب کے ہم معنی تھا۔ قرآن، ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ زمین اور آسمان کی چیزوں پر غور کرو۔ اس میں تم خدا کی نشانیاں (signs) پاؤ گے۔ مگر بوقتِ نزولِ قرآن، یہ خدائی نشانیاں کلی طور پر ظاہر نہیں ہوئی تھیں، وہ نیچر میں چھپی ہوئی تھیں۔ اِس بنا پر، قرآنی غوروفکر کے لیے انسان کے پاس مطلوب فریم ورک موجود نہیں تھا۔ خدا نے چاہا کہ یہ فریم ورک انسان کو حاصل ہو جائے۔ اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ قدیم زمانے کا بادشاہی نظام تھا۔ بادشاہی نظام نے کائنات میں آزادانہ غور و فکر کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ اِس بنا پر یہ بادشاہت خدا کی اسکیم کے خلاف تھی۔ چناں چہ خدا نے اصحابِ رسول کے ذریعے تاریخ میں مداخلت کی۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ محض ایک سیاسی تبدیلی کا واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بعد کو ظہور میں آنے والے سائنسی انقلاب کا ابتدائی مرحلہ تھا۔ اُس وقت کے دو بڑے شہنشاہی نظام، بازنطینی ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر کو اصحابِ رسول کے ذریعے توڑ دیا گیا، تا کہ کھلی فضا میں سائنسی غور وفکر کا آغاز ہو سکے (الأنبياء: 18)۔ یہی انقلابی واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ایک قدیم پیغمبر کی زبان سے پیشین گوئی کے طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے — اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے: He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered (Habakkuk 3:6) یہاں ’’ازلی پہاڑ‘‘ سے مراد وہ سیاسی پہاڑ ہے، جو شہنشاہی نظام کی صورت میں قدیم زمانے سے دنیا میں قائم تھا۔ اسلام کے ذریعے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page