مغربی تہذیب کے دو پہلو
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
سے نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے اس کام کے لیے یا جوج اور ماجوج کا انتخاب ہوا ۔ یہ لوگ مکمل طور پر سیکولر لوگ تھے، اور اس بنا پر وہ اس قابل تھے کہ کسی کا کمپلیکس (complex) کے بغیر فطرت کی آزادانہ تحقیق کر کے وہ اس کے اندر چھپے ہوئے رازوں کا انکشاف کریں۔ معرفتِ اعلیٰ کا امکان حضرت ابراہیم خدا کے پیغمبر تھے جو قبل سائنس دور (pre-scientific age) میں قدیم عراق میں پیدا ہوئے ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے ان کو آسمان اور زمین کے ملکوت (الأنعام: 76 ) دکھائے ۔ یہ ایک الہامی مشاہدہ تھا ، وہ اس لیے کیا گیا تھا کہ انھیں یقین حاصل ہو ۔ آسمان اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ تخلیق کا مشاہدہ ہے۔ اس مشاہدہ سے خالق کے بارے میں یقین حاصل ہوتا ہے ۔ قبل سائنس دور میں اس قسم کا مشاہدہ صرف الہامی طریقے سے حاصل ہو سکتا تھا۔ موجودہ سائنسی زمانے میں جب دوربین (1608) اور خورد بین (1830) جیسے آلات کے ذریعہ براہِ راست مشاہدہ انسان کے لیے ممکن ہو گیا ، تو یقین کا معاملہ ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ خود علم انسانی کے ذریعے ہر شخص براہ راست طور پر کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں کو دیکھے اور اُس کے ذریعے نیا یقین حاصل کر سکے ۔ یہ تاریخ انسانی میں ایک نیا دور تھا ، جو بیسویں صدی عیسوی میں کامل طور پر ظاہر ہوا۔ اس انقلاب کی خبر قرآن میں پیشگوئی طور پر ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں دے دی گئی تھی ۔ قرآن کی سورہ نمبر 41 میں یہ پیشین گوئی حسب ذیل الفاظ میں موجود ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجدة: 53)۔ سائنسی انقلاب نے خدا کی معرفت کا ایک نیا علمی دروازہ ہر انسان کے لیے کھول دیا ۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ ہر انسان اپنے براہِ راست مطالعہ اور مشاہدہ کے ذریعے تخلیق کے اندر موجود، خالق کی شہادتوں (evidences) کو جان سکے۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے ایک مفصل کتاب لکھی ہے جو مذہب اور جدید چیلنج (God Arises) کے نام سے مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ جدید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader