قیامت کا الارم
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
دریافتوں نے کس طرح انسان کے لیے خدا کے وجود اور اس کی عظمت کو ایک معلوم واقعہ بنا دیا ہے، اس کی تفصیل مذکورہ کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس سائنسی انقلاب کے ذریعے جو خدائی نشانیاں (divine signs) انسان کے اوپر کھلیں، انھوں نے اعلیٰ خدائی معرفت کے حصول کو آخری حد تک انسان کے لیے ممکن بنا دیا۔ اللہ کے بہت سے بندوں کو اس سے معرفت حاصل ہوئی۔ مگر اس دنیا میں خیر کی قوتوں کے ساتھ شر کی قوتیں ہمیشہ سرگرم رہتی ہیں۔ اسی کو زرتشت (وفات: 551 ق م) نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: The world is a perpetual battle ground of good and evil forces. چناں چہ عین اُس وقت کچھ بڑے بڑے ذہن پیدا ہوئے جنھوں نے انسان کو دوبارہ معرفتِ خداوندی سے دور کرنے کی کوشش کی۔ اس واقعہ کی پیشگی خبر حدیث میں اس طرح دی گئی تھی کہ بعد کے زمانے میں ایک دجّال (great deceiver) پیدا ہوگا جو لوگوں کو اپنی پرفریب باتوں سے گم راہی میں ڈال دے گا (بعض احادیث میں تیس دجّالوں کا ذکر ہے)۔ دجّال یا دجّالیت کیا ہے۔ اس سے مراد دراصل غلط تعبیر (misinterpretation) کی فکری گم راہی ہے جو دورِ دجّال میں زیادہ بڑے پیمانے پر ظاہر ہوگی۔ موجودہ زمانے میں سائنس کی دریافتوں نے انسان کے اوپر ایسی نشانیاں ظاہر کی تھیں جن پر غور کر کے انسان خدا کی اعلیٰ معرفت حاصل کر سکے اور خدا اس کا اصل فوکس بن جائے، جیسا کہ مطلوب ہے۔ مگر دجّال یہ کرے گا کہ وہ چیزوں کی غلط تعبیر کر کے انسانی سوچ کو منحرف کر دے گا۔ اس طرح وہ یہ کوشش کرے گا کہ انسان کا فوکس بدل جائے۔ وہ چیزوں کو خدا کے حوالے سے نہ دیکھ سکے، بلکہ وہ اُنھیں دوسرے غیر خدائی حوالوں سے دیکھنے لگے۔ عالمی دعوت کا دور اس دور میں انجام دیے جانے والے مثبت کام کا دوسرا پہلو عالمی دعوت ہے۔ اس عالمی دعوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader