Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

کی پیشگی خبر ایک حدیث رسول میں اس طرح دی گئی تھی: لا یبقی علی ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمۃ الإسلام (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4)۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی بھی خیمہ اور مکان ایسا نہیں باقی رہے گا جس میں خدا، اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے۔ دنیا کے تمام گھروں میں کلمۂ اسلام کا داخلہ کسی پراسرار ذریعے سے نہیں ہو گا۔ یہ واقعہ مکمل طور پر معلوم وسائل کے ذریعے انجام پائے گا، یعنی پیغام رسانی کے عالمی وسائل کے ذریعے ۔ موجودہ زمانے کو کمیونیکیشن کا دور (age of communication) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ زمانے میں پہلی بار ابلاغ کے عالمی وسائل انسان کے تصرف میں آئے ہیں۔ سائنسی انقلاب سے پہلے اس قسم کی عالمی دعوت ممکن ہی نہ تھی۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف دجال نے جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے ساری دنیا کو منفی پروپیگنڈوں سے بھر دیا ہے۔ ساری دنیا منفی سوچ کے اندھیرے میں جی رہی ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کو حدیث میں بطور پیشین گوئی فتنة الدَّھيماء (أبو دائود، کتاب الفتن) کہا گیا تھا، یعنی سخت قسم کا تاریک فتنہ۔ اس تاریک فتنے سے مراد ایک عظیم فکری اندھیرا (intellectual darkness) ہے۔ یہ فتنہ جدید ذرائع ابلاغ کے منفی استعمال کے نتیجے میں ظاہر ہو گا۔ جدید ذرائع ابلاغ کا مثبت استعمال دعوتِ حق کی عالمی اشاعت ہے۔ یہ اشاعت ملٹی میڈیا (multi-media) کے ذریعے انجام پائے گی۔ ملٹی میڈیا کے ذریعے دعوت کی موثر اشاعت کرنے والے ہی کو حدیث میں مہدی، یا رجل مومن کہا گیا ہے۔ جدید وسائل کا منفی استعمال کرنے والے کا علامتی نام دجال ہے، اور جدید وسائل کا مثبت استعمال کرنے والے کا علامتی نام مہدی۔ مغرب کا دورِ عروج مغربی قوموں نے جدید کمیونیکیشن کو لمبی جدوجہد کے بعد دریافت کیا تھا۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے فائدے کا بڑا حصہ (lion’s share) مغربی قوموں کو ملا۔ اس کے ذریعے انھوں نے پہلے نوآبادیات (colonializm) کا دور پیدا کیا، پھر اسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ عالمی مواصلاتی سیطرہ وجو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page