Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آیا جس کو گلوبلائزیشن (globalization) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج (global village) کی حیثیت دے دی، جس کی مرکزی طاقت فطری طور پر اہلِ مغرب خود تھے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو ایک حدیثِ رسول سے بطور پیشین گوئی معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے جو یا جوج اور ماجوج کے تذکرے کے ذیل میں آئی ہے۔ اس کے ایک حصے کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے : ”ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا — یاجوج اور ماجوج کو کھولا جائے گا، پھر وہ لوگوں کی طرف نکلیں گے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے (وھم من کل حَدَبِ ينسلون)۔ پھر وہ لوگوں کے اوپر چھا جائیں گے۔ اہل ایمان اُن سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور اپنی پناہ گاہوں میں چلے جائیں گے اور اپنے مویشیوں کو وہ اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ یاجوج اور ماجوج زمین کا سارا پانی پی جائیں گے (ويشربون مياه الأرض)۔ اُن میں سے کچھ لوگ ایک دریا کے پاس آئیں گے اور اس کا پانی پی کر اس کو خشک کر دیں گے، پھر کچھ لوگ اُس دریا سے گزریں گے، تو وہ اس کو دیکھ کر کہیں گے کہ کبھی یہاں پانی موجود تھا۔ زمین کے صرف وہ لوگ یاجوج اور ماجوج سے بچیں گے جو اپنے شہر یا اپنی پناہ گاہ میں تھے۔ پھر یاجوج اور ماجوج میں سے کوئی شخص کہے گا: ہم زمین والوں سے فارغ ہو گئے، اب آسمان والے باقی ہیں (ھؤلاء أهل الأرض قد فرغنا منهم، باقي أهل السماء)۔ پھر اُن میں سے کوئی شخص اپنے حربہ کو حرکت دے گا اور وہ اس کو آسمان کی طرف پھینکے گا، اس کے بعد وہ حربہ ان کی آزمائش کے لیے خون آلود ہو کر ان کی طرف لوٹ آئے گا۔ (مسند احمد، جلد 3، صفحہ 77) وضاحت اس حدیث میں واضح طور پر اُس حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو یورپ کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد بتدریج عالمی سطح پر ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد اقتصادیات کی دنیا میں ایک نیا واقعہ پیش آیا جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جا سکتا ہے۔ اس جدید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page