Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

اقتصادی انفجار کا سر مکمل طور پر مغربی قوموں کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے ذریعے انھوں نے زمین کے تمام مادی ذخائر پر اجارہ داری (monopoly) حاصل کرلی۔ ’’ایک دریا کا پانی پیا جائے‘‘ سے مراد غالباً پٹرول کے ذخائر ہیں۔ ان ذخائر کا بڑا حصہ مشرقی دنیا میں تھا، لیکن جس انڈسٹری میں ان کی کھپت تھی، وہ زیادہ تر مغربی دنیا میں واقع تھیں۔ اس لیے اہل مغرب کو یہ موقع ملا کہ وہ تیل کے قدرتی ذخیروں کو اپنے یہاں لے جا کر ان کو بھرپور طور پر استعمال کر سکیں۔ حدیث میں مزید بتایا گیا ہے کہ یاجوج اور ماجوج جب زمین کا سارا پانی پی چکے ہوں گے تو وہ آسمان کی طرف رخ کریں گے۔ اس سے مراد غالباً مختلف قسم کے خلائی راکٹ ہیں۔ مغربی قوموں نے کائنات میں زمین جیسے کسی گُرہ (planet) کی کھوج میں کثرت سے اپنے تفتیشی راکٹ خلا میں بھیجے، جو کیمروں اور مختلف قسم کے آلات سے لیس تھے، مگر وہ کھوج کے باوجود خلا میں زمین جیسا دوسرا کوئی کرہ در یافت نہ کر سکے—مذکورہ حدیث تمثیل کی زبان میں واضح طور پر ان حالات کو بتا رہی ہے جو موجودہ زمانے میں مغربی قوموں کے ذریعے پیش آئے۔ سیکولر گروہ کے ذریعے دین کی تائید صحیح البخاری میں ایک لمبی روایت نقل ہوئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ خیبر (7 ہجری) پیش آیا۔ اس غزوے میں ایک آدمی نے نہایت بہادری کے ساتھ جنگ کی، یہاں تک کہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ مسلمان اس شخص کے کارنامے سے متاثر ہوئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے بارے میں فرمایا کہ وہ آگ میں جانے والوں میں سے ہے۔ لوگوں کو اس پر شک ہوا تو آپ نے فرمایا کہ جا کر معاملے کی تحقیق کرو۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اگر چہ اُس نے نہایت بہادری کے ساتھ جہاد کیا تھا، لیکن آخر میں اُس نے خودکشی کر کے اپنی جان دے دی۔ چوں کہ خودکشی کی موت حرام موت ہے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ وہ اہل نار میں سے ہے (هذا من أهل النّار)۔ اس کے بعد آپ نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا یا: إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسير، باب : إن الله يؤيد الدين بالرجل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page