Urdu book · قیامت کا الارم

سیکولر گروہ کے ذریعے دین کی تائید

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

(الفاجر) یعنی خدا اور تائید کرے گا اس دین کی فاجر انسان کے ذریعے ۔ اس حدیث سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں کوئی چیز شر مطلق نہیں ہوتی، یہاں ہر شر میں خیر کا پہلو شامل رہتا ہے۔ کچھ’’ فاجر‘‘ لوگ اگر اپنے مقصد کے تحت کوئی کام کریں تو اس کا فائدہ صرف اُنھیں کو نہیں ملے گا، بلکہ اُن کے کام میں ایسے مزید پہلو شامل ہوں گے جن کا فائدہ دینِ حق کے حصے میں بھی آ جائے گا۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے اور اس میں کوئی استثنا نہیں۔ یہی صورت یاجوج اور ماجوج کے معاملے میں پیش آئے گی۔ یاجوج اور ماجوج کا گروہ، مذہبی معنوں میں، کوئی صالح گروہ نہیں ہوگا، لیکن وہ اپنے عمل سے جو تبدیلی زمین میں لائے گا، اُس میں اگر ایک طرف شر کا پہلو ہوگا تو اسی کے ساتھ اُس میں خیر کا پہلو بھی لازماً شامل رہے گا۔ روایات کے مطابق، یاجوج اور ماجوج کے زمانے میں دو اور بڑے واقعات پیش آئیں گے ۔ ایک یہ کہ اُس زمانے میں دجال یا دجاجلہ کا ظہور ہوگا۔ اور دوسری طرف اُسی زمانے میں ایک اور شخص کا ظہور ہوگا، جس کو صحیح مسلم کی ایک روایت میں رجل مؤمن کہا گیا ہے، اور حدیث کی دوسری کتابوں میں اس کو مہدی کہا گیا ہے۔ دجال شر کی علامت ہوگا، اور مہدی یا رجل مومن خیر کی علامت ۔ دجال یہ کرے گا کہ یاجوج اور ماجوج کے پیدا کردہ حالات میں شر کا پہلو لے کر اس کی بنیاد پر اپنی مفسدانہ قیادت کھڑی کرے گا۔ اور دوسری طرف مہدی یا رجل مومن، یاجوج اور ماجوج کے واقعے میں خیر کا پہلو دریافت کرکے اس کو دین حق کی تائید میں استعمال کرے گا۔ یاجوج اور ماجوج کے بارے میں قرآن میں: حتى إذا فتحت يأجوج ومأجوج (الأنبياء: 96) کا لفظ آیا ہے، یعنی جب یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا۔ قرآن کے اس اسلوب میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج کا نکلنا خدا کے ایک عظیم منصوبہ کے تحت ہوگا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یاجوج اور ماجوج کی نسل کے درمیان فطرت کی حقیقتوں کو دریافت کرنے کی جو غیر معمولی اسپرٹ پیدا ہوئی، وہ پوری تاریخ میں کسی بھی انسانی گروہ کے اندر موجود نہ تھی۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ یاجوج اور ماجوج کی نسل اپنی بے پناہ کوشش کے ذریعے سائنسی اور صنعتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page