قیامت کا الارم
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
تہذیب کو وجود میں لائی۔ اس تہذیب کے نتیجے میں ایسے عظیم مواقع کھلے، جو اس سے پہلے تاریخ میں کبھی دیکھے نہیں گئے تھے۔ بعد کو دجال اور مہدی اور مسیح کی صورت میں جو کردار وجود میں آئیں گے، وہ انھیں مواقع کے استعمال کا نتیجہ ہوں گے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ دجال ، ان جدید مواقع کا استعمال منفی انداز میں کرے گا، اور مہدی یا مسیح ان جدید مواقع کا استعمال مثبت انداز میں کریں گے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یاجوج اور ماجوج کے عمل ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ تاریخ میں پہلی بار تین عظیم چیزیں پیدا ہوئیں ضلالتِ کبریٰ، معرفتِ کبریٰ اور دعوتِ کبریٰ۔ قربِ قیامت قرآن اور حدیث کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج جب ظاہر ہوں گے تو یہ وہ وقت ہوگا، جب کہ قیامت بہت قریب آچکی ہوگی۔ ایک لمبی روایت جو ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی ہے، اُس میں یاجوج اور ماجوج کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے: فإنّ الساعة كالحامل المتم التي لايدري أهلها متى تفجؤهم بولدها، ليلاً أو نهاراً (مسند احمد، جلد 1، صفحہ 375)۔ یعنی ظہورِ یاجوج اور ماجوج کے وقت قیامت اتنی زیادہ قریب ہوگی، جیسے کوئی حاملہ جس کے حمل کی مدت پوری ہوچکی ہو، اِس کے اہل خانہ کو نہیں معلوم کہ کب اچانک اِس کا وضع حمل ہو جائے ، رات کو یا دن کو۔ یاجوج اور ماجوج کا ظہور اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ دراصل تاریخ کے خاتمہ (end of history) سے پہلے عمل میں آنے والا آخری اتمامِ حجت کا معاملہ ہے۔ اُس زمانے میں ایسے اسباب اور حالات پیدا ہوں گے کہ حق کا اعلان اپنی آخری اور اعلیٰ ترین صورت میں انجام دیا جا سکے۔ گویا کہ یہ صورِ قیامت سے پہلے صورِ دعوت ہوگا۔ ایسی حالت میں دجالی فتنے کا ظہور اس بات کی علامت ہوگا کہ انسان نے آخری طور پر اس بات کا جواز (justification) کھو دیا ہے کہ موجودہ زمین پر اس کو مزید آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔ انسان کے سامنے تمام خدائی نشانیاں آخری طور پر کھل گئیں، اس کے باوجود وہ اندھا اور بہرا بنا رہا۔ گویا کہ سائنسی دریافتیں انسان کے اوپر امکانی اعتبار سے اتمامِ حجت ہیں، اور جدید وسائل کے ذریعے انجام دیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader