Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوگا۔ دونوں ہی عام انسانوں جیسے انسان ہوں گے۔ یہ صرف اُن کا کردار ہوگا جو بتائے گا کہ وہ دجّال والا کام انجام دے رہے ہیں، یا مہدی والا کام۔ دجّال کا ظہور دجّال کا لفظ دُجْل سے بنا ہے۔ دجل کے لفظی معنی ہیں ــــ دھوکا دینا (to deceive)۔ داجل کے معنی ہیں دھوکا دینے والا۔ دجّال اس کا مبالغہ ہے، یعنی بہت زیادہ دھوکا دینے والا۔ اِس سے غیر سونے پر سونے کا ملمّع کر کے اُس کو سونا ظاہر کرنے کو دجل کہا جانے لگا۔ مثلاً کہا جاتا ہے: دجّل الإناء یعنی غیر ذہنی برتن پر سونے کا ملمّع کر کے اس کو سونے کے برتن کی مانند ظاہر کرنا۔ بعد کے زمانے میں ظاہر ہونے والے شخص کو دجّال اس لیے کہا گیا کہ وہ حقائق کے ساتھ دجل یا فریب کاری کا معاملہ کرے گا۔ وہ حقیقتوں کو غلط صورت میں پیش کر کے لوگوں کو دھوکے میں ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ فکری معاملات میں دجل کا دوسرا نام ــــ غلط تعبیر (misinterpretation) ہے۔ غلط تعبیر کیا ہے۔ غلط تعبیر کا مطلب ہے ــــ کسی چیز کی غیر واقعی یا باطل توجیہہ کرنا: Misinterpretation: An incorrect, or false explanation. دجل کا یہ فعل ہمیشہ سے دنیا میں موجود رہا ہے، لیکن پرنٹنگ پریس اور میڈیا کی ایجاد نے موجودہ زمانے میں دجل کے مواقع بہت زیادہ بڑھا دیے ہیں۔ پہلے زمانے میں اگر سادہ طور پر دجل کرنے والے لوگ پیدا ہوتے تھے، تو اب جدید مواقع کے استعمال سے یہ ممکن ہوگیا کہ زیادہ بڑے پیمانے پر دجّالی کا فعل انجام دیا جاسکے۔ دجّال کسی پراسرار شخصیت کا نام نہیں۔ دجّال، دراصل قدیم دور کے چھوٹے دجّال کے مقابلے میں، جدید دور کا زیادہ بڑا دجّال ہے۔ یہ دراصل، یاجوج اور ماجوج کے ذریعے پیدا شدہ عظیم مواقع کا منفی استعمال کرنے والے کا دوسرا نام ہے۔ دجّال اکبر کا فتنہ حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں مستقبل کے بارے میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آخری زمانے میں ایک دجّال پیدا ہوگا۔ اُس وقت اُمّتِ مسلمہ میں سے ایک شخص اٹھے گا، جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page