Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

متوازن غذا کے بارے میں اس دریافت نے ہمارے احساسِ شکر کے لیے اٹھا حد تک زیادہ بڑا پوائنٹ آف ریفرنس دے دیا۔ پچھلی معلومات کے تحت ، انسان اگر حیوانی سطح پر غذا کی اہمیت کو جانتا تھا، تو اب جدید معلومات کے تحت وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ اعلیٰ ترین انسانی سطح پر غذا کی اہمیت محسوس کر سکے۔ وہ آفاقی درجے میں شکر کا تحفہ اپنے خالق کی خدمت میں پیش کرے ۔ پوائنٹ آف ریفرنس میں یہ اضافہ صرف پہلی بار ممکن ہوا ہے۔ پچھلی صدیوں میں سائنس نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ اُس نے تاریخ میں پہلی بار فطرت (nature) میں چھپی ہوئی اُن حقیقتوں کو کھولا ہے، جس کو قرآن میں آیاتِ اللہ (divine signs) کہا گیا ہے۔ ان سائنسی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ انعاماتِ الہی کے بارے میں انسان کے پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس طرح، تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان ہر چیز میں خدا کی نعمتوں کو انتہائی اعلیٰ درجے میں محسوس کرے اور شکرِ خداوندی کے بلند تر احساسات سے اس کا سینہ معمور ہو جائے۔ دور قدیم کے انسان کو اگر معرفت کا تجربہ ہوتا تھا، تو اب جدید در یافتوں کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان زیادہ برتر سطح پر معرفت اعلیٰ کا تجربہ کر سکے۔ نطق اور سماعت اسی طرح انسان ہمیشہ بولتا تھا اور اس کے بول کو دوسرا انسان سنتا تھا۔ قدیم انسان کے لیے یہ بظاہر ایک سادہ واقعہ تھا، مگر موجودہ زمانے میں، اس معاملے میں، بے شمار نئی چیزیں دریافت ہوئی ہیں، جنھوں نے بولنے اور سننے کے معاملے کو ایک عظیم نعمت بنا دیا ہے، ایک ایسی نعمت جس کو سوچ کر آدمی کے سینے میں اس انوکھے عطیہ پر منعم حقیقی کے لیے شکر کا ایک سیلاب اُمڈ پڑے۔ مثال کے طور پر الیکٹرسٹی (electricity) کو لیجیے۔ الیکٹری سٹی کی ایجاد نے بہت سے معاملات میں نئے نئے تجربات کو ممکن بنا دیا ہے۔ چناں چہ ایک سائنس داں نے تجربے کے دوران شیشے کے ایک فانوس کو لیا۔ اس نے اس کے منہ کو بند کیا اور اس کے اندر ایک برقی گھنٹی رکھی۔ پھر اس نے شیشے کی اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیا۔ اس گھنٹی کا سویچ باہر تھا۔ اب سویچ کو دبایا گیا تو فانوس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page