قیامت کا الارم
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اندر گھنٹی کے بجنے کی صورت دکھائی دے رہی تھی، لیکن فانوس کے باہر گھنٹی کے بجنے کی آواز بالکل سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس طرح کے تجربات کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایک آدمی کے منہ سے نکلی ہوئی آواز کو جب دوسرا آدمی سنتا ہے، تو یہ ایک فطری ترسیل (transmission) کے ذریعے ہوتا ہے۔ منہ سے نکلی ہوئی آواز ہوا میں لہریں پیدا کرتی ہے۔ یہ لہریں سفر کر کے انسان کے کان تک پہنچتی ہیں، اور پھر انسان ان صوتی لہروں (sound waves) کو ناقابلِ فہم حد تک انتہائی پیچیدہ نظامِ سماعت کے ذریعے با معنی الفاظ (meaningful words) میں کنورٹ (convert) کر کے اُن کو سنتا اور سمجھتا ہے۔ فطرت میں اس طرح کے بے شمار انتظامات ہیں، جن کے ذریعے بولنے اور سننے کا واقعہ وجود میں آتا ہے۔ جو آدمی اس معاملے میں سائنس کی جدید دریافتوں کو جانے، اس کے اندر اپنے منعم کے بارے میں جو عظیم احساس پیدا ہوگا، اُس کا تجربہ قدیم زمانے کے انسان کو نہیں ہو سکتا تھا۔ آبی قانون اسی طرح قدیم زمانے سے انسان دریاؤں اور سمندروں میں سفر کرتا تھا۔ اس کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ اس آبی سفر پر خالق کا شکر ادا کرے۔ لیکن موجودہ زمانے میں اس موضوع پر جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے اس معاملے میں آدمی کے پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ مثلاً یہ کہ کس قانونِ فطرت کے تحت کشتی پانی کے اوپر چلتی ہے، اس کا علم پہلے انسان کو نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں وسیع تحقیقات کے ذریعے اس معاملے میں انسان کے علم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چناں چہ سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ ایک آبی قانون ہے جس کے تحت ایسا انوکھا واقعہ ہوتا ہے کہ کشتیاں اور جہاز سمندر میں تیرتے ہوئے دور کی منزل تک پہنچ جائیں۔ اس آبی قانون کو آج کل کی زبان میں ہائڈرو اسٹیٹکس (hydrostatics) کہا جاتا ہے، جس کا ایک شعبہ بائنسی (buoyancy) ہے۔ اس سے مراد پانی کا یہ انوکھا قانون ہے کہ جب کوئی چیز پانی میں ڈالی جاتی ہے، تو وہ پانی کے اندر جتنی جگہ گھیرتی ہے، اُسی کے بقدر وہاں آپ ورڈ پریشر پیدا ہوتا ہے جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader