قیامت کا الارم
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
کے نتیجے میں کشتی پانی کی سطح پر تیرنے لگتی ہے: Buoyancy: The upward pressure by any fluid on a body partly or wholly immersed therein: it is equal to the weight of the fluid displaced. پانی کی سطح پر کشتی کا چلنا پہلے بھی انسان کے اندر شکر کا جذبہ پیدا کرتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی مذکورہ دریافت نے اس معاملے میں انسان کے پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اب ان نئی معلومات کے ساتھ جب ایک انسان کشتی یا جہاز کو تیز رفتاری کے ساتھ پانی کی سطح پر تیرتے ہوئے دیکھتا ہے، تو اُس کا سینہ بہت زیادہ اضافے کے ساتھ شکرِ خداوندی کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔ اعلیٰ شکر کا یہ موقع انسان کو جدید سائنسی دریافتوں کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ نفرت اور شکایت یہ چند بالکل سادہ قسم کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کی بے شمار باتیں جدید سائنسی دریافتوں کے ذریعے ہمارے علم میں آئی ہیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار اہل ایمان کے لیے یہ عظیم موقع کھلا کہ وہ فطرت کے انعامات کو زیادہ اعلیٰ درجے پر جانیں اور مُنعِم کا اعتراف زیادہ گہرائی کے ساتھ کر سکیں۔ یہ گویا اہل ایمان کے لیے عظیم شکر کا ایک موقع تھا، مگر عین اُسی وقت شیطانی اغوانے اُن کے ذہن کو منفی سوچ کی طرف موڑ دیا۔ ساری مسلم دنیا شکایت اور نفرت اور تشدد کے جذبات کا شکار ہو کر رہ گئی۔ لوگ اعلیٰ شکر اور اعلیٰ معرفت کے تجربے سے محروم ہو گئے۔ یہ بلاشبہ شیطانی اغوا کا بہت بڑا واقعہ تھا، اس لیے اس کو حدیث میں دجالی کہا گیا ہے۔ یہ دجالی کس طرح ممکن ہوئی۔ وہ اس طرح ممکن ہوئی کہ عین اُس زمانے میں جب کہ سائنس نے آیاتِ الہی (divine signs) کو کھولا تھا، اُسی زمانے میں غیر مسلم قوموں نے جدید طاقتوں سے مسلح ہو کر مسلمانوں کو ہر شعبے میں مغلوب کر لیا۔ تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی، ہر میدان میں مسلمان غیر مسلموں سے پچھڑ گئے۔ مسلمانوں کا یہ پچھڑاپن ان کی اپنی کوتاہی کے نتیجے میں تھا، لیکن دجال نے جدید میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ دوسری قوموں کی سازش اور ظلم کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اس دجالی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader