Urdu book · قیامت کا الارم

یاجوج اور ماجوج کا مصداق

Urdu book, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کی کتابوں (صحیح البخاری، صحیح مسلم، الترمذی، ابن ماجه، مسند احمد) میں بھی متعدد روایات کے تحت، یاجوج اور ماجوج کا تذکرہ موجود ہے۔ اسی طرح بائبل کے بعض ابواب مثلاً حزقیل میں یاجوج اور ماجوج (Gog and Magog) کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں بھی یاجوج اور ماجوج کا ذکر موجود ہے۔ مثلاً ہندو ازم کی مقدس کتاب پران میں یاجوج اور ماجوج کو کو کا اور وکوکا (Koka and Vikoka) کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن کی تفسیروں اور احادیث کی شرحوں میں یاجوج اور ماجوج کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ تاہم یاجوج اور ماجوج کے معاملے میں ابھی تک اہل علم کی کوئی متفقہ رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ تمام حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسی رائے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے جو اس سلسلے میں متعلق حوالوں (relevant data) سے علمی طور پر مطابقت رکھتی ہو۔ راقم الحروف نے اسی اصول کے تحت، یاجوج اور ماجوج سے متعلق حوالوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے کے بعد اس معاملے میں میری جو رائے بنی ہے، اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔ یاجوج اور ماجوج (Gog and Magog) کا معاملہ کوئی پُراسرار معاملہ نہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو معلوم طریقِ استنباط کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں میں اس معاملے میں فنی بحثوں سے قطع نظر کرتے ہوئے، صورتِ معاملہ کی ایک علمی تصویر پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ یاجوج اور ماجوج کا مصداق یاجوج اور ماجوج سے کون لوگ مراد ہیں، اس کے بارے میں اہل علم نے مختلف رائیں دی ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس معاملے میں مولانا انور شاہ کشمیری (وفات: 1934) کی رائے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے روس اور برطانیہ اور جرمنی کی قوموں کو اس کا مصداق ٹھیرایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: أما الكلام فى يأجوج ومأجوج، فاعلم أنهم من ذرية يافث باتفاق المؤرخين۔ ويقال لهم في أوربا: كا ک میکاك‘ وفى مقدمة ابن خلدون غو غ ماغو غ‘ وللبریتانیة إقرار بأنهم من ذرية مأجوج، وكذلك ألمانيا أيضا منهم، وأما الروس فهم من ذرية يأجوج (فيض الباري

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page