قیامت کا الارم
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
دجّالیت، مذہبی استحصال کا فتنہ صحیح مسلم میں ایک روایت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر الدّجّال أخوفني عليكم (کتاب الفتن ) یعنی مجھ کو تمھارے اوپر دجّال سے بھی زیادہ غیر دجّال کا اندیشہ ہے۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ خارجی دجّال سے زیادہ خطرناک تمھارے لیے داخلی دجّال ہوگا۔ خارجی دجّال کو پہچاننا تمھارے لیے آسان ہوگا، لیکن داخلی دجّال کو تم اپنا ہی آدمی سمجھ لو گے اور اس بنا پر اس کو موقع ملے گا کہ وہ تم کو زیادہ سے زیادہ گم راہ کر سکے۔ امام نووی (وفات: 1277ء) نے اس حدیث کی شرح میں ایک اور روایت نقل کی ہے۔ اس سے مذکورہ نقطہ نظر کی تائید ہوتی ہے۔ اس دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں : إن أخوف ما أخاف علی أمّتی، الأئمّۃ المضلّون ( صحیح مسلم بشرح النّووی، جلد 18، صفحہ (64) یعنی اپنی امت پر مجھے جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے، وہ امت کے گم راہ کرنے والے ائمہ (قائد) ہیں۔ امت کے ائمہ سے مراد یہاں استحصال پسند قائدین ہیں۔ یہ لوگ اپنی قیادت کو فروغ دینے کے لیے خوش نما الفاظ بولتے ہیں۔ وہ اپنے غیر دینی مقاصد کو دین کی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ اس سے دھوکہ کھا کر بڑی تعداد میں لوگ ان کے گرد اکٹھا ہوجاتے ہیں۔ اس طریقے کو دوسرے لفظوں میں، مذہبی استحصال (religious exploitation) کہا جاسکتا ہے۔ مذہب کا پولٹیکل انٹروپیٹیشن اسی فتنے کی سنگین صورت، مذہب کا پولٹیکل انٹروپیٹیشن (political interpretation) ہے موجودہ دور میں جب پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا، تو کچھ لوگوں نے ایسی کتابیں لکھ کر دنیا میں پھیلانا شروع کردیں جن میں مذہب کا پولٹیکل انٹروپیٹیشن دیا گیا تھا۔ مخصوص اسباب کی بنا پر یہ کتابیں لوگوں کے درمیان کثرت سے پھیلنے لگیں۔ اس لٹریچر سے متاثر ہونے والے لوگوں کا نشانہ، منحرفانہ طور پر، سیاسی انقلاب بن گیا۔ مذہب کی یہ سیاسی تعبیر ایک خطرناک مغالطہ (fallacy) پر کھڑی کی گئی۔ وہ مغالطہ یہ کہ مذہب ایک مکمل نظام کا نام ہے۔ مذہب کا مقصد صرف پوجا اور پرستش نہیں ہے، بلکہ اسی کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader