قیامت کا الارم
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
لازمی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ مذہب کے دیوانی اور فوج داری قوانین کو زمین پر عملًا نافذ کیا جائے۔ جوں کہ قوانین کا نفاذ، حکومت پر قبضہ کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے ان تحریکوں کا نشانہ فوراً یہ بن گیا کہ حکم رآں طبقے سے لڑ کر وہ اُن سے اقتدار کو چھینیں، تا کہ سیاسی قوانین کا نفاذ ممکن ہو سکے۔ یہ مذہبی سیاست ایک عظیم نقصان کا سبب بن گئی۔ موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں یہ ہوا تھا کہ فطرت میں چھپی ہوئی خدائی نشانیاں ظاہر ہوئی تھیں، نیز انھیں دریافتوں کی بنا پر جدید کمیونیکیشن کا دور آیا تھا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا تھا کہ دعوت کا کام اعلیٰ سائنسی دلائل کی بنیاد پر جدید کمیونیکیشن کے ذریعے انجام دیا جائے اور ساری دنیا میں خدا کا پیغام زیادہ مؤثر انداز میں تمام لوگوں تک پہنچا دیا جائے۔ مگر یہ عظیم امکان واقعہ نہ بن سکا۔ کیوں کہ جنھیں یہ دعوتی کام کرنا تھا، وہ سیاسی ہنگامہ آرائیوں میں مشغول ہو گئے۔ موجودہ زمانے میں لوگوں کے اندر منفی سوچ، انتہا پسندی، تشدد اور دوسروں کے بارے میں غیر ہم دردا نہ ذہن، سب کے سب اسی پولیٹکل انٹرپریٹیشن کا نتیجہ ہیں۔ یہی پولیٹکل انٹرپریٹیشن ہے جس نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر نفرت کلچر کو جنم دیا ہے۔ مغالطہ انگیزی مذہب میں یہ بگاڑ ایک مغالطہ کے ذریعے پیدا ہوا۔ مذہب کا تعلق اصلاً انسان کی اپنی زندگی سے ہے۔ اس لیے مذہب میں زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں تعلیمات موجود ہیں۔ یہ تعلیمات اصلاً ایک آدمی کی اپنی ذات کو مخاطب کرتی ہیں، نہ کہ خارج میں پائے جانے والے پولیٹکل سسٹم کو۔ مذہب کے پولیٹکل انٹرپریٹیشن کے لیے ایک طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ جو مذہبی تعلیمات لازم کے صیغے میں تھیں، ان کو متعدی کے صیغے میں ڈھال دیا گیا۔ مثلاً مذہب میں بتایا گیا تھا کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں پوری طرح انصاف کے اصولوں کی پیروی کرے (الحدید: 25)۔ اس ذاتی تعلیم کو بدل کر اس کو سیاسی ٹکراؤ کا موضوع بنا دیا گیا کہ تم لوگ انصاف کا جھنڈا اٹھاؤ، پوری زمین پر بزور انصاف کا نظام قائم کرو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader