مغالطہ انگیزی
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
اِسی طرح مذہب میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ ہر شخص اپنی زندگی میں خدا کے حکموں کی پیروی کرے۔ اس تعلیم کو بدل کر اُس کی یہ تشریح کی گئی کہ تم زمین پر خدا کے خلیفہ ہو۔ اس لیے تمھاری ذمے داری ہے کہ تم خدا کے نائب بن کر خدا کی زمین پر خدا کا حکم نافذ کرو۔ مکمل دین کا نظریہ دین کی سیاسی تعبیر کی دوسری بنیاد ”مکمل دین‘‘ کا نظریہ تھا۔ مکمل دین کا مطلب یہ تھا کہ دین میں عقیدہ اور عبادت کے احکام ہیں، اور اسی کے ساتھ اس میں دیوانی اور فوج داری قوانین بھی ہیں۔ مکمل دین کا یہ نظریہ ایک مغالطے پر قائم تھا۔ وہ یہ کہ دین کا عبادتی حصہ اس کا حقیقی حصہ (real part) ہے۔ اور قوانین کے نفاذ کا معاملہ دین کا اضافی حصہ (relative part) ، یعنی دین کے عبادتی حصے کو ہر حال میں اور ہر شخص کو اختیار کرنا ہے۔ اس کے برعکس، قوانین کے نفاذ کا معاملہ پورے معاشرے کا معاملہ ہے۔ معاشرہ اگر تیار ہو، تو قوانین کا نفاذ اس کی ذمے داری بن جائے گی۔ اور اگر معاشرہ تیار نہ ہو، تو قوانین کا نفاذ عملاً التوا کے خانے میں رہے گا۔ مکمل دین کے نظریے میں یہ مغالطہ شامل ہے کہ اس میں دین کے حقیقی حصہ اور دین کے اضافی حصہ، دونوں کو ہر حال میں یکساں مطلوب کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اسی سے تمام خرابیاں پیدا ہوئیں۔ حالاں کہ دین کے حقیقی حصے کی مطلوبیت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے، اور دین کے اجتماعی حصے کی مطلوبیت معاشرے کی حالت کے ساتھ مشروط ہے۔ افراد کے لیے وہی دین مکمل دین ہے جس پر عمل کرنا، ان کی استطاعت کے مطابق ، اُن سے مطلوب ہو۔ اسلام کا پولٹیکل انٹرپریٹیشن ‘‘مکمل اسلام‘‘ کے نفاذ کے نام پر کیا گیا، مگر عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ اسلام سے مکمل انحراف کے ہم معنی بن گیا۔ یہ اسلام کی حقیقت کو درہم برہم (topsy-turvy) کرنے کا ایک معاملہ تھا۔ اس کے نتیجے میں جو خرابیاں پیش آئیں ، اُن میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ اسلام کے پولٹیکل انٹرپریٹیشن کا پہلا نقصان یہ ہوا کہ اسلامی عمل کا اصل نشانہ بدل گیا۔ اصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader