مغالطہ انگیزی
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
نشانہ وہ ہے جس کو قرآن میں وابتغو إليه الوسيلة (المائدة: 35) کہا گیا ہے، یعنی خدا کی قربت تلاش کرنا۔ مگر اس انٹرپریٹیشن میں اس کے برعکس، اسلام کا اصل نشانہ یہ بن گیا کہ رائج الوقت سیاسی سسٹم کو توڑو، تاکہ تم دنیا میں مکمل اسلام کو نافذ کر سکو۔ اس انٹرپریٹیشن کا دوسرا نقصان یہ تھا کہ اس میں اجتماعی تعلقات کی نوعیت مکمل طور پر بدل گئی۔ اسلام کے مطابق، مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو تعلق ہے، وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے، مگر پولیٹکل انٹرپریٹیشن نے اس کو بدل کر مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان سیاسی حریف کا تعلق قائم کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے انسان مسلمانوں کے لیے دعوتی خیر خواہی کا موضوع نہ رہے، بلکہ وہ ان کے سیاسی مد مقابل بن گئے۔ اس طرح دعوہ کلچر کے بجائے، ایک پولیٹکل کلچر وجود میں آ گیا۔ پھر اسی پولیٹکل انٹرپریٹیشن کا یہ نتیجہ تھا کہ ساری دنیا میں اسلامی عمل، متشددانہ عمل کے ہم معنی بن گیا۔ اُن لوگوں نے اپنے کام کا آغاز پُرا من کوشش کی صورت میں کیا، مگر جلد ہی اُن کو محسوس ہوا کہ پُرا من کوشش کے ذریعے اقتدار کو بدلنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کر لیا، حتیٰ کہ انھوں نے اس معاملے میں خود کُش بم باری (suicide bombing) کو بھی اپنے لیے جائز قرار دے دیا۔ اس طرح سیاسی انقلاب کا نظریہ عملاً سیاسی فساد کے ہم معنی بن گیا۔ اسلام کے پولیٹکل انٹرپریٹیشن نے اِس سے متاثر لوگوں کو ایک ایسے کام میں مصروف کر دیا جو اسلام میں سرتا سر ناجائز تھا، یعنی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت۔ موجودہ زمانے میں ہر ملک میں ایسے مسلم لیڈر حکومت کر رہے تھے جنھوں نے ماڈرن ایجوکیشن حاصل کی تھی اور اس بنا پر وہ سیاست کے معاملے میں سیکولر مزاج رکھتے تھے، یعنی اپنی نجی زندگی میں مذہبی ہونے کے باوجود، وہ سیاسی معاملات میں سیکولر طرزِ فکر کے حامل تھے۔ چناں چہ اس انٹرپریٹیشن کے حاملین نے یہ اعلان کر دیا کہ یہ لوگ ہمارے ملک میں مکمل اسلام نافذ نہیں کر رہے ہیں، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ اُن سے لڑ کر اُن کو اقتدار سے ہٹائیں، اور ایسے لوگوں کو اقتدار پر قبضہ دلائیں جو مکمل اسلام کو نافذ کرنے والے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader