Urdu book · قیامت کا الارم

مغالطہ انگیزی

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نظریے کے تحت یہ ہوا کہ مسلم ملک کے لوگ دو طبقوں میں بٹ گئے ۔ حاکم اور غیر حاکم۔ اور پھر مسلم عوام اپنے ملک کے حکم رانوں سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ مسلمانوں کا یہ فعل، فقہ کی اصطلاح میں خروج (revolt) کا فعل تھا، جو مبینہ طور پر اسلام میں حرام ہے۔ اس طرح تمام مسلم ملکوں کے مسلمان ذہنی یا عملی طور پر اپنے ملک کے حکم رانوں کے باغی بن گئے ۔ انھوں نے ایک خود ساختہ انٹرپریٹیشن کے تحت، ایک نا جائز کام کو اپنے لیے جائز کر لیا۔ بیسویں صدی عیسوی، تقریباً پوری کی پوری، پولٹیکل انٹرپریٹیشن سے پیدا ہونے والے ہنگاموں کی صدی تھی ۔ یہ عین وہی زمانہ تھا، جب کہ سائنس کی دریافتوں نے، قرآن کے الفاظ میں، کائنات میں چھپی ہوئی آیات (signs) کو آخری حد تک کھول دیا تھا ۔ اس وقت ضرورت تھی کہ سائنس کے دریافت کردہ حقائق کو لے کر دعوتِ حق کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دیا جائے ۔ مگر عین اسی وقت یہ ٹریجڈی پیش آئی کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم قائدین، پولٹیکل ہنگاموں میں مشغول ہو گئے، اور تبیینِ حق کا اعلیٰ ترین کام جو ہو سکتا تھا، وہ نہ کیا جا سکا۔ اس معاملے میں، مسلم قائدین کی سیاسی انتہا پسندی کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے ۔ سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897) پیرس میں بیٹھ کر سیاسی ہنگاموں کی قیادت کر رہے تھے۔ 1884 کا واقعہ ہے ، اُن کے شاگرد مفتی محمد عبدہ (وفات: 1905) نے اُن سے کہا کہ ہم سیاست کے بے فائدہ کام کو چھوڑ کر پر امن دعوت اور تعلیم کا کام کریں، جس میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ جمال الدین افغانی نے اس کے جواب میں کہا: إنما أنت مُحْبِطٌ (جمال الدین افغانی، محمود أبو ریہ، قاهرة 1966، صفحہ (50) یعنی تم تو پسپائی کی بات کرتے ہو۔ یہ بلاشبہ ایک بھیانک ٹریجڈی تھی ۔ یہ ٹریجڈی پولٹیکل انٹرپریٹیشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی ۔ پولٹیکل انٹرپریٹیشن کے دوسنگین نتائج نکلے ۔ جدید دعوتی مواقع کا استعمال نہ ہونا، اور پولٹیکل انقلاب کے نام پر تشدد کلچر کا رواج۔ دین کی اس سیاسی تعبیر کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ دعوت الی اللہ کا کام عملاً معطل ہو گیا۔ تمام لوگ بزعم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page