قیامت کا الارم
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
خود مفروضہ "مکمل اسلامی نظام برپا کرنے میں مصروف ہو گئے، جو قانونِ فطرت کے تحت سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ اس طرح ایک ناممکن کے حصول کی کوشش کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ جو کام پوری طرح ممکن تھا، وہ بھی نہ ہو سکا، یعنی پر امن دعوت و ورک۔ مکمل نظام کے حوالے سے اس سیاسی تعبیر کا دوسرا خطر ناک نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کے نام پر ہر طرف تشدد ہونے لگا۔ کیوں کہ مفروضہ مکمل نظام قائم کرنے کے لیے رائج الوقت سیاسی اقتدار کو ہٹانا ضروری تھا۔ اس طرح مکمل نظام کے نظریے کو ماننے والے لوگ ہر جگہ قائم شدہ اقتدار سے ٹکرا گئے ۔ پہلے انھوں نے قائم شدہ سیاسی اقتدار کے خلاف تقریر اور تحریر کے ذریعے اپنی مہم چلائی ، اور جب تقریر اور تحریر سے ان کو اپنا مقصد حاصل ہوتا ہوا نظر نہیں آیا، تو انھوں نے مسلح جد و جہد (armed struggle) کی صورت اختیار کر لی۔ اور جب مسلح جد و جہد بھی نا کام نظر آئی، تو انھوں نے آخری چارہ کار کے طور پر مفروضہ سیاسی دشمنوں کے خلاف خود کش بم باری شروع کر دی۔ نئے پیغمبر کی ضرورت اسی طرح، مذہب میں دجالیت کی ایک مثال وہ لوگ ہیں جنھوں نے یہ کہا کہ بیسویں صدی عیسوی میں حالات بدل گئے ہیں، اس لیے اب ہمیں ایک نئے پیغمبر کی ضرورت ہے۔ یہ نظریہ پیش کر کے انھوں نے نئی پیغمبری کا دعویٰ کر دیا ۔ یہ پورا معاملہ مغالطہ آمیزی کا معاملہ ہے۔ یہ بلاشبہ مذہبی دجالیت کی ایک مثال ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حالات کے بدلنے سے کبھی کوئی نیا پیغمبر نہیں آتا۔ حالات میں تبدیلی صرف اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے، نہ کہ نئے پیغمبر کی ضرورت کو۔ کوئی پیغمبر جب آتا ہے تو وہ ہمیشہ دو میں سے ایک سبب کی بنا پر آتا ہے ۔ یا تو یہ کہ وہاں کوئی پیغمبر سرے سے نہ آیا ہو، اس لیے نبوت کے فقدان کی بنا پر وہاں کوئی نبی بھیجا جائے۔ یا یہ کہ پچھلے نبی کی تعلیمات میں تحریف ہوگئی ہو، اس بنا پر خدائی مذہب کا مستند ماخذ موجود نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader