Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں دونوں میں سے کوئی ضرورت نہیں پائی جاتی ۔ اب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ایک ایسا پیغمبر آچکا ہے، جو یکساں حیثیت سے تمام دنیا کے لیے ابدی طور پر خدا کا پیغمبر ہے۔ دوسرے یہ کہ اس پیغمبر کی تعلیمات مکمل طور پر محفوظ ہیں ۔ اس لیے اب نبوت کی مذکورہ دونوں ضرورتوں میں سے کوئی بھی ضرورت یہاں موجود نہیں۔ حالات کی تبدیلی بطور واقعہ درست ہے، مگر اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو مجتہدانہ کوشش کے ذریعے از سر نو لوگوں کے سامنے اس طرح لایا جائے کہ وہ جدید ذہن کے لیے پوری طرح قابل فہم بن سکیں ۔ لوگوں کو نظر آئے کہ آپ کی تعلیمات آج کی دنیا کے لیے بھی اتنا ہی متعلق (relevant) ہیں، جتنا کہ وہ اس سے پہلے تھیں— حالات کی تبدیلی نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے، نہ کہ نئے پیغمبر کی ضرورت کو۔ نشانے کی تبدیلی سیکولر دجل اور مذہبی دجل ، دونوں کا مشترک نقصان یہ ہے کہ اس میں ذہن کا فوکس خدا سے ہٹ جاتا ہے۔ کوئی غیر خدا انسان کا فوکس بن جاتا ہے۔ اس دنیا میں کسی نظریے کی صحت کو جانچنے کا معیار صرف ایک ہے، وہ یہ کہ اس نظریے کے تحت ذہنی فوکس کیا بنتا ہے— خدا، یا خدا کے سوا کوئی اور چیز ۔ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں وہی نظریہ درست نظریہ ہے جو خدا رخی (God-oriented) نظریہ ہو۔ جس نظریے میں کسی غیر خدا کو فوکس بنایا گیا ہو، وہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نظریہ صرف دجالی نوعیت کا ایک پر فریب نظریہ ہے، اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ ہدایت اور ضلالت ہر دور میں حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اور ضلالت دونوں قسم کے واقعات ہمیشہ تاریخ میں پائے گئے ہیں ۔ اس اعتبار سے دجالی کردار بھی ہمیشہ دنیا میں موجود رہا ہے اور اس کے مقابلے میں صاحب ہدایت کا کردار بھی ہمیشہ پایا جاتا رہا ہے۔ اس معاملے میں جو مزید چیز موجودہ زمانے میں پیش آئی، وہ کمیت (quantity) کے اعتبار سے تھی، نہ کہ کیفیت (quality) کے اعتبار سے، یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہدایت اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page