قیامت کا الارم
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
ضلالت، دونوں قسم کے واقعات ہمیشہ سے موجود تھے، البتہ موجودہ زمانے میں اس میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ موجودہ زمانے میں جدید امکانات کے ظہور نے داعئ ہدایت اور داعئ ضلالت دونوں کے لیے غیر معمولی حد تک نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ اب دونوں قسم کا کام آخری حد تک انجام دینا ممکن ہوگیا ہے۔ ایک طرف داعئ ضلالت، یا دجال نے جدید مواقع کو آخری حد تک دجل کے لیے استعمال کیا، اس بنا پر اس کو دجال کہا گیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ آخری دور میں تقریباً تیس جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے (صحیح مسلم، کتاب الفتن) چارلس ڈارون اور سگمنڈ فرائڈ جیسے مفکرین کو اسی قسم کے سیکولر دجاجلہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مذہب کے دائرے میں بھی ایسے افراد پیدا ہوئے جنھوں نے اپنے خلاف حق نظریے کو پر فریب توجیہات کے ذریعے حق کی صورت میں پیش کیا۔ مثال کے طور پر وہ لوگ جنھوں نے مکمل اسلام کے نفاذ کے مغالطہ آمیز نام پر مذہب کا پولیٹکل انٹرپریٹیشن دیا اور اس طرح مذہب کو اصلاح خویش کے بجائے عملاً تخریب غیر کا عنوان بنا دیا۔ مہدی یا رجل مومن اب اس دور کے اُس مثبت کردار کو لیجیے، جس کا ذکر حدیث میں مہدی، یا رجل مومن کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔ یہ کردار بھی کوئی پُراسرار کردار نہیں۔ یہ ایک معلوم کردار ہے جس کو عام اصولوں کے تحت مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ مہدی، یا رجل مومن کے ذریعے ادا کیے جانے والے مثبت کردار کے دو پہلو ہیں ۔ معرفت، اور دعوت، یعنی نئے دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں معرفتِ اعلیٰ کا حصول، اور اسی طرح نئے حاصل شدہ ذرائع کی مدد سے اسلام کی دعوت کو مؤثر انداز میں عالمی سطح پر پھیلانا۔ یہ دونوں پہلو قر آن اور حدیث میں پیشگی طور پر بیان کر دیے گئے ہیں۔ جدید در یافتوں کے ذریعے معرفتِ اعلیٰ کے حصول کا امکان قرآن کی سورہ نمبر 41 میں پیشگی طور پر بیان کر دیا گیا تھا۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: "عن قریب مستقبل میں ہم، لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ کھل جائے کہ یہ (قرآن) حق ہے" (حم السجدة : 53)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader