Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی یہ آیت ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں اتری تھی۔ اُس وقت پیشگی طور پر یہ خبر دی گئی تھی کہ آئندہ ایسا ہوگا کہ کائنات میں چھپی ہوئی خدائی نشانیاں انسانی تحقیق کے نتیجے میں دریافت کی جائیں گی۔ یہ نشانیاں خود علم انسانی کی سطح پر قرآن کی صداقت کو ثابت کریں گی۔ یہ پیشین گوئی موجودہ زمانے میں واقعہ بن چکی ہے۔ اِس طرح، کام کا ابتدائی پچاس فی صد حصہ انجام پا چکا ہے۔ اب مہدی، یا رجل مومن کا کام یہ ہے کہ وہ ان حقائق کو جانے، اور بقیہ پچاس فی صد حصے کی تکمیل کر کے ان کو معرفت اعلیٰ کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ مہدی کی پہچان مہدی جب ظاہر ہوگا تو اس کی پہچان کیا ہوگی۔ یہ پہچان حدیث کے مطابق، خود اس کے لقب میں موجود ہے۔ مہدی صرف ایک لقب ہے، وہ اُس کا اسمِ ذات نہیں۔ مہدی کا لفظی مطلب ہے ــــ ہدایت پایا ہوا شخص (guided person)۔ مہدی کا لفظی معنی منفی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ مثبت معنی میں ہے۔ اِس اعتبار سے مہدی کا لفظی مطلب ہوگا ــــ صحیح ہدایت پایا ہوا شخص (rightly guided person)۔ حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کا ظہور، فتنۂ دُہیماء (تاریک فتنہ) کے زمانے میں ہوگا۔ اُس وقت تمام لوگ معرفتِ حق کے بارے میں اندھیرے میں پڑے ہوئے ہوں گے۔ ایسے تاریک دور میں معرفتِ حق کی روشنی کسی کو صرف خدا کی خصوصی توفیق سے مل سکتی ہے، یعنی وہبی طور پر، نہ کہ اکتسابی طور پر۔ سیاہ فتنے کے دور میں کوئی شخص نہ بطور خود سچائی کو پا سکے گا اور نہ وہاں دوسرا کوئی شخص موجود ہوگا جو اُس کو سچائی کی روشنی دکھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ فتنۂ دُہیماء کے دور میں کسی کو صرف خداوندِ ذوالجلال کی طرف سے ہدایت مل سکتی ہے۔ مہدی کا مہدی ہونا، اپنے آپ میں بتا رہا ہے کہ مہدی کی پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ مہدی اپنے ماحول کے برعکس، استثنائی طور پر ایک ہدایت یاب انسان ہوگا، جب کہ لوگ عمومی طور پر ہدایتِ حق سے محروم ہو چکے ہوں گے۔ مہدی ایک استثنائی انسان کا نام ہے، اور یہی استثناء وہ چیز ہے جس کے ذریعے پہچانسے والے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page