مہدی کی پہچان
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو پہچانیں گے۔ مہدی نہ خود اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کرے گا، اور نہ آسمان سے یہ آواز آئے گی کہ فلاں شخص مہدی ہے، اس کو مانو اور اس کا اتباع کرو۔ فتنۂ دہیماء فتنۂ دہیماء کے لفظی معنی ہیں سخت سیاہ اور تاریک فتنہ (الففتنة السوداء المظلمة۔ لسان العرب 12/211 )۔ یہاں سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہوگی جو اس عمومی سیاہی یا تاریکی کا سبب بنے گی۔ کیوں ایسا ہوگا کہ لوگ اپنے آپ کو فکری اعتبار سے تاریکی کے جنگل میں بھٹکتا ہوا محسوس کریں گے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آئے گا، جب کہ لکھے اور بولے ہوئے الفاظ کی بہت زیادہ کثرت ہو جائے گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کے حالات پہلی بار موجودہ زمانے میں پیش آئے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جب پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور الیکٹرانک میڈیا کا رواج عمل میں آیا، تو تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ بے شمار کتابیں چھپ کر ہر جگہ پھیل گئیں۔ اسی کے ساتھ ریڈیو اور ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے الفاظ کی ایک نئی دنیا میں وجود میں آگئی۔ انٹرنیٹ پر مختلف قسم کی جو معلومات ڈالی جارہی ہیں، وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ہر دومنٹ میں اس کے اندر دو ہزار صفحات سے زیادہ معلوم کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ مطبوعہ کتابوں کا ہے۔ ایک روایت، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس میں بعد کے زمانوں کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنہ اللسان فيها أشد من السيف (أبو داؤد، کتاب الملاحم) یعنی ایک زمانہ آئے گا، جب کہ زبان یا الفاظ کا فتنہ تلوار کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک ہو جائے گا۔ موجودہ زمانے میں الفاظ کا یہ فتنہ اپنی آخری صورت میں سامنے آچکا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو چیز سب سے زیادہ گم راہی کا سبب بن رہی ہے، وہ بلا شبہ خوش نما قسم کے پرفریب الفاظ ہیں، جو فضا میں اس طرح بھر گئے ہیں کہ کوئی بھی عورت یا مرد اُس سے محفوظ نہیں۔ الفاظ کے اس تاریک فتنے سے بچنا کس طرح ممکن ہوگا۔ اُس کا راز ایک حدیث سے معلوم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader