قیامت کا الارم
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المعرفة جنّة من الفتن (الدارمی، مقدمة) _ یعنی معرفت، فتنے کے مقابلے میں ڈھال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوش نما الفاظ کے سحر سے باہر آنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی کے اندر معرفت موجود ہو۔ معرفت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو آدمی کو اس قسم کے فتنے سے بچاسکے۔ مہدی دراصل اسی قسم کا ایک صاحب معرفت انسان ہوگا۔ اس کے اندر خدا کی خصوصی توفیق سے یہ صلاحیت ہوگی کہ وہ لفظی مغالطے کو سمجھ سکے۔ وہ خوش نما الفاظ اور حقیقی استدلال کے فرق کو جانے۔ وہ ایک گم راہ گن بیان کا تجزیہ کرکے اس کی گم راہی کو کھول سکے۔ اس کے اندر تجزیہ کی طاقت (power of analysis) کمال درجے میں موجود ہو، وہ محدّ تبین (precise description) کی صلاحیت کا حامل ہو۔ اپنی اسی معرفت کی بنا پر وہ خود الفاظ کے فتنے سے بچے گا اور دوسروں کے لیے الفاظ کے فتنے سے بچنے کا ذریعہ بنے گا۔ مہدی، یا رجل مومن کے اسی اہم رول کی بنا پر اُس کی بابت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وجب علی كل مؤمن نصره أو قال إجابته (سنن أبى داؤد، كتاب المهدي) یعنی مہدی، یا رجل مومن کے ظہور کے وقت ہر مومن پر واجب ہوگا کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کرے، یا آپ نے یہ فرمایا کہ وہ اس کی پکار پر لبیک کہے۔ اس حدیث سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہدی، یا رجل مومن کے ظہور کا معاملہ کوئی پُراسرار معاملہ نہیں۔ اُس کے ظہور کا معاملہ اگر کسی معجزاتی شخصیت کے ظہور کا معاملہ ہو، تو پھر ایسے شخص کی نصرت کی تاکید ایک غیر ضروری بات ہوگی۔ کیوں کہ ایک ایسا انسان جو معجزاتی شخصیت کی حیثیت رکھتا ہو، اس کو اپنا مطلوب رول ادا کرنے کے لیے خود معجزہ کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ خداوندی مداخلت کا معاملہ مہدی کے بارے میں سنن ابن ماجه (كتاب الفتن، باب خروج المهدی) میں ایک روایت آئی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے: يصلحه الله في ليلة (خدا ایک رات میں اُس کی اصلاح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader