Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

کردے گا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہدی کا ظہور اُس زمانے میں ہوگا، جب کہ دنیا میں فتنہ و ہما کا دور آچکا ہوگا، یعنی فکری تاریکی (intellectual darkness) کا دور۔ یہ ایک شدید صورتِ حال ہوگی جب کہ کوئی شخص نہ اپنی ذاتی کوشش سے ہدایت کی روشنی پاسکے گا، اور نہ کوئی ادارہ ایسا ہوگا جو اس عمومی بگاڑ کے دور میں مہدی جیسی شخصی کی تشکیل کرسکے۔ ایسا واقعہ براہِ راست خدا کی مداخلت کے ذریعے ہوگا۔ خدا کی خصوصی مداخلت کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ایسا اس لیے ہوگا تا کہ خدا کے بندوں کو خدا کا سچا راستہ دکھایا جاسکے۔ مہدی کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: یواطئ اسمہ اسمی یعنی اُس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔ یہاں نام سے مراد صفت ہے، جیسا کہ دوسری روایت سے واضح ہوتا ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: یشبھہ فی الخلق، ولا یشبھہ فی الخلق (أبوداؤد، کتاب المهدی) یعنی مہدی باعتبارِ داخلی صفت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ ہوگا، نہ کہ باعتبارِ ظاہری ہیت۔ مہدی، نہ کہ ہادی بعض لوگوں نے مہدی کو ہادی کے معنی میں لے لیا۔ اس خود ساختہ تصور کے مطابق، انھوں نے کہا کہ مہدی جدید دور کا ایک انقلابی لیڈر ہوگا، جو عالمی سیاسی نظام قائم کرے گا۔ مہدی کی یہ تعریف سر تا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہدی جدید دور کا ایک عارف ہوگا۔ وہ خدا کی توفیق سے خود اعلیٰ معرفت حاصل کرے گا، اور دوسروں کو اعلیٰ معرفت کا راستہ دکھائے گا، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ معرفتِ الہی کا حصول خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اعلیٰ اور سب سے زیادہ مطلوب چیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کام بلاشبہ عالمی سطح پر انجام پائے گا، لیکن مہدی کا کام سیاسی انقلاب کے ہم معنی نہیں ہوگا، بلکہ وہ افراد کے اندر ذہنی سطح پر قربانی انقلاب پیدا کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ مہدی کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو اس کے اندر ایسے امتیازی اوصاف ہوں گے کہ لوگ فوراً اُس کو پہچان لیں گے اور جوق در جوق اس کے ساتھی بن جائیں گے۔ لیکن حدیث میں مہدی یا رجل مومن کی تصویر اس سے بالکل مختلف ہے۔ حدیث کے مطابق، جب مہدی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page