Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ظاہر ہوگا تو وقت کے با اثر افراد اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اس بنا پر دجال اور اس کے ساتھی، مہدی کی مخالفت پر انتہائی حد تک جری ہو جائیں گے۔ وہ اس کی کردارکشی (character assassination) کریں گے، یہاں تک کہ وہ اس کو قتل کر دینا چاہیں گے۔ مگر مہدی کو خدا کی خصوصی مدد حاصل ہوگی، اس بنا پر دجال اور اس کے ساتھی ہرگز اپنے تخریبی منصوبے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ حدیث کے مطابق، دجال کے ساتھ اس کے حامیوں کی بھیڑ ہوگی، لیکن مہدی، یا رجلِ مومن کے ساتھ اس کے حامیوں کی بھیڑ نہ ہوگی۔ اس معاملے میں کنفیوژن کا سبب صرف ایک ہے، وہ یہ کہ حدیث میں اگر چہ آنے والے شخص کو مہدی کا نام دیا گیا تھا، مگر لوگوں نے بطور خود اس کو ہادی کے ہم معنی قرار دے دیا، یعنی دوسروں کو ہدایت دینے والا، زمین کے اوپر ہدایت کو نافذ کرنے والا، اہلِ باطل سے لڑ کر دنیا میں اسلام کا سیاسی غلبہ قائم کرنے والا، وغیرہ۔ مہدی کی یہ تعریف ایک خود ساختہ تعریف ہے۔ اس میں مہدی کو بدل کر ہادی کے ہم معنی قرار دے دیا گیا ہے، یعنی ایک ایسا لفظ جو مفعول کی حیثیت رکھتا تھا، اُس کو فاعل کے ہم معنی بنا دیا گیا۔ یہی چیز ہے جو لوگوں کے لیے مہدی کو پہچاننے کے معاملے میں رکاوٹ بنے گی۔ وہ عالم گیر سیاسی انقلاب کو مہدی کی پہچان بنائے ہوئے ہیں، حالاں کہ حدیث میں دیے ہوئے لفظ کے مطابق، مہدی کی پہچان یہ ہے کہ وہ گم راہی کی تاریکی میں ہدایت کی روشنی پائے گا۔ وہ معرفتِ اعلیٰ کو دوبارہ دریافت کرے گا، جب کہ وہ مستور ہو چکی ہوگی۔ مہدی کا ظہور اصلاً در یافتِ ہدایت کا واقعہ ہے، نہ کہ نفاذِ ہدایت کا واقعہ۔ اعلانِ حق، نہ کہ دعوائے حق مہدی کا ظاہر ہ اعلانِ حق کا ظاہر ہ ہے، نہ کہ دعوائے حق کا ظاہر ہ۔ مہدی، یا رجلِ مومن اپنے کام کا آغاز دعوے سے نہیں کرے گا، یہ صرف اُس کے کام کی استثنائی نوعیت ہوگی جس سے لوگوں کے لیے اس کو پہچاننا ممکن ہو سکے گا۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہوگا کہ مہدی کے معاملے کو خدا کی نسبت سے دیکھا جائے ۔ خدا کے نزدیک ، اصل بات یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page