اعلانِ حق، نہ کہ دعوائے حق
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ وہ مہدی ہے۔ خدا کے نزدیک، اِس معاملے میں دعویٰ مکمل طور پر ایک غیر متعلق (irrelevant) بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا کے نزدیک، اصل قابلِ لحاظ بات دوسروں کی نسبت سے ہے، نہ کہ خود مہدی کی نسبت سے۔ یہ دوسروں کا امتحان ہے کہ وہ اپنے وقت کے اِس رجلِ مومن کو پہچانیں، جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے، اور پھر وہ بھر پور طور پر اِس کا ساتھ دے کر اِس کو یہ موقع دیں کہ وہ اپنے مطلوب رول کو ادا کر سکے۔ احادیثِ مہدی یا مسیح اور اِس طرح کے دوسرے نصوص، دراصل ایک عظیم دعوتی امکان کو بتا رہے ہیں، نہ کہ شخصی طور پرکسی فرد یا افراد کی پر اسرار فضیلت کو۔ یہ صرف خدا ہی کو معلوم ہے کہ اِس کی توفیقِ خاص سے، اِس رول کی ادائیگی کس کے حصے میں آئے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِس معاملے میں ’’آنے والے‘‘ کا انتظار، یا خود اپنے بارے میں مہدی یا مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا، دونوں ہی یکساں طور پر غلط ہیں: Waiting for a “coming person”, or claiming “I am that person”, both are equally wrong. یہاں اِس معاملے کی وضاحت ضروری ہے کہ مہدی اور مسیح کے مسئلے کو اصولی طور پر بیان کرنا ایک الگ چیز ہے اور خود اپنے بارے میں مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا بالکل دوسری چیز۔ اِس معاملے کی اصولی وضاحت ایک خالص علمی مسئلہ ہے اور اِس کو کوئی بھی شخص اپنے علم کے مطابق، بیان کر سکتا ہے۔ لیکن خود اپنے بارے میں مہدی یا مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا، بالکل دوسری نوعیت کی چیز ہے اور اِس دوسری چیز کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ پیغمبر کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ پیغمبر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشن کا آغاز دعوے سے کرے، لیکن مہدی یا مسیح کے معاملے کی نوعیت یہ نہیں ہے۔ کون شخص مہدی تھا یا کس نے مسیح کا رول ادا کیا، اِس کا تحقق (ascertainment) صرف آخرت میں خدا کے اعلان کے ذریعے ہوگا۔ اِس لیے دنیا میں اِس قسم کا دعویٰ کرنا اپنے آپ میں ایک بے بنیاد دعویٰ (baseless claim) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس معاملے میں اصل چیز دعوے کا تحقق ہے، اور موجودہ دنیا میں اِس دعوے کے تحقق کے لیے سرے سے کوئی ذریعہ موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مہدی اور مسیح کا معاملہ خود ساختہ تقرری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader