Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

(self-appointment) کا معاملہ نہیں ہے۔ جو شخص اس کو ذاتی تقرری کا معاملہ سمجھے، وہ یا تو جاہل ہوگا یا مجنون۔ مہدی اور مسیح حدیث کی مشہور کتاب سنن ابن ماجہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ولا المهدى إلا عیسى بن مریم (کتاب الفتن، باب : الصبر علی البلاء) یعنی عیسی بن مریم کے سوا، کوئی اور مہدی نہیں۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی اور مسیح، دونوں ایک ہی شخصیت کے علامتی طور پر دو الگ نام ہیں۔ آخری دور میں ظاہر ہونے والی ایک ہی شخصیت ہے، جس کو کسی روایت میں رجلِ مومن کہا گیا ہے، اور کسی روایت میں مہدی، اور کسی روایت میں مسیح۔ ایک اعتبار سے، ظاہر ہونے والا شخص، امت محمدی کا ایک فرد ہوگا، اس اعتبار سے اس کو رجل مومن کہا گیا۔ دوسرے اعتبار سے وہ گم راہی کے عمومی اندھیرے میں ہدایت کی روشنی کو مکمل طور پر دریافت کرے گا، اس اعتبار سے اس کو مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا شخص۔ ایک اور اعتبار سے وہ شخص امت محمد کے آخری زمانے میں وہی رول ادا کرے گا، جو امت یہود کے آخری زمانے میں حضرت مسیح نے انجام دیا تھا۔ گویا کہ یہ تینوں الفاظ ایک ہی شخصیت کے تین پہلوؤں کو بتاتے ہیں، نہ کہ الگ الگ تین مختلف شخصیتوں کو۔ سائنسی انقلاب کے دو پہلو مہدی اور مسیح اور دجال کوئی پر اسرار شخصیتیں نہیں ہیں۔ یہ دراصل ما بعد سائنس دور (post scientific age) کے حالات میں پیش آنے والے فطری واقعات ہیں۔ قرآن کی تصریح کے مطابق، موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ شر کے ساتھ خیر اور خیر کے ساتھ شر کا پہلو شامل رہتا ہے (النور: 11)۔ اس عام فطری اصول کے مطابق، سائنسی انقلاب کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا کہ اُس کے ہر شر میں خیر اور ہر خیر میں شر کا پہلو شامل تھا۔ اِس کے بعد فطری طور پر دو کردار سامنے آئے ۔ ایک ، وہ کردار جس کے حصے میں سائنسی انقلاب کے منفی پہلو کا استعمال آئے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page