سائنسی انقلاب کے دو پہلو
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
اور دوسرا، وہ کردار جو سائنسی انقلاب کے مثبت پہلو کے استعمال کا کریڈٹ (credit) پائے گا۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوگی۔ قدیم زمانے میں ایٹم (atom) کو مادّے کا آخری ناقابل تقسیم ذرہ سمجھا جاتا تھا جو کہ مادّے کی آخری اکائی تھا۔ اس سے یہ نظریہ بنا کہ حقیقت وہ ہے جو قابل پیمائش ہو۔ لیکن جرمن سائنس داں آئن اسٹائن (وفات: 1955) کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایٹم مزید ٹوٹ سکتا ہے۔ ایٹم کے اس ٹوٹنے کے واقعے کو جوہری انشقاق (nuclear fission) کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں ایٹم کا مرکزہ جوہری ذرات کے تصادم سے پھٹ کر غیر معمولی توانائی خارج کرتا ہے: Nuclear fission: the spontaneous or impact -induced splitting of a heavy atomic nucleus, accompanied by a release of energy. اس جوہری انشقاق (nuclear fission) کا ایک پہلو یہ تھا کہ اُس سے انتہائی شدید قسم کی توانائی خارج ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں نے اس توانائی کا منفی استعمال کیا۔ انھوں نے اس کے ذریعے سے ایٹم بم (atomic bomb) یا نیوکلیئر بم (nuclear bomb) بنایا۔ اس طرح ایک ایسا تخریبی ہتھیار بنا، جو تمام مہلک ہتھیاروں سے زیادہ بڑا مہلک ہتھیار تھا۔ لیکن اس جوہری انشقاق کے واقعے میں ایک عظیم مثبت پہلو بھی شامل تھا۔ جوہری انشقاق سے پہلے ایٹم کو آخری مادی اکائی سمجھا جاتا تھا۔ اس کے تحت یہ نظریہ بنا کہ حقیقت صرف وہ ہے جو تجربے میں آئے۔ جو چیز انسان کے براہِ راست تجربے میں نہ آئے، وہ حقیقت بھی نہیں۔ مگر ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد یہ نظریہ ختم ہو گیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایٹم کے ماورا بھی کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جو مشاہدے میں نہیں آتیں، اگرچہ وہ اپنا وجود رکھتی ہیں۔ ان حقیقتوں کو صرف ان کے اثر (effect) کے ذریعہ جانا جا سکتا ہے۔ اس طرح بالواسطہ استدلال (inferential argument) کا طریقہ رائج ہوا۔ علمی حلقے میں یہ مان لیا گیا کہ بالواسطہ استدلال یا استنباط (inference) بھی اتناہی معقول استدلال (valid argument) ہے، جتنا کہ براہِ راست استدلال (direct argument)۔ اس واقعے کا ایک زبردست الہیاتی پہلو تھا۔ قدیم زمانے کے فلاسفہ اور متکلمین، خدا کے وجود پر جو استدلال قائم کرتے تھے، وہ تمام تر بالواسطہ استدلال ہوا کرتا تھا۔ مثلاً وہ استدلال جس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader